آئی اے ایس پردیپ کمار ریٹائرمنٹ کے دن گرفتار، 169 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں سی بی آئی کی کارروائی
ہریانہ اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ میں 169 کروڑ روپے کے مبینہ غبن کا معاملہ، 504 کروڑ کے بڑے بینکنگ اسکینڈل سے بھی جڑے تار
چنڈی گڑھ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ہریانہ کے سینئر آئی اے ایس افسر پردیپ کمار کو ان کی ریٹائرمنٹ کے دن مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے 169 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کے سلسلے میں گرفتار کر لیا۔ پردیپ کمار ہریانہ اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ (HSPCB) کے ممبر سکریٹری کے عہدے پر تعینات تھے اور ان پر سرکاری فنڈز کے مبینہ غبن اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
سی بی آئی کے مطابق، پردیپ کمار 2011 بیاچ کے ہریانہ سول سروس (HCS) افسر تھے، جنہیں بعد میں آئی اے ایس میں ترقی دی گئی۔ تحقیقات میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بورڈ کے فنڈز کو فکسڈ ڈپازٹ کے نام پر IDFC فرسٹ بینک کی سیکٹر-32، چنڈی گڑھ برانچ میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔
تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ فنڈز ایک ایسے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے جو مبینہ طور پر HSPCB کے نام پر کھولا گیا تھا، لیکن اس کے لیے نہ کوئی محکمانہ منظوری لی گئی اور نہ ہی سرکاری ریکارڈ میں اس کا کوئی ذکر موجود تھا۔ مزید یہ کہ اس اکاؤنٹ میں کبھی کوئی فکسڈ ڈپازٹ نہیں بنایا گیا اور مبینہ طور پر جعلی لین دین کے ذریعے 169 کروڑ روپے نکال لیے گئے۔
سی بی آئی کے مطابق، پردیپ کمار کو کئی مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا، لیکن وہ تفتیش میں شامل ہونے سے گریز کرتے رہے۔ انہوں نے پنچکولہ کی عدالت میں پیشگی ضمانت کی درخواست بھی دائر کی تھی، جس کی سماعت 2 جولائی کو ہونا تھی۔ تاہم، ان کے مقام کا پتہ چلنے کے بعد سی بی آئی نے انہیں منگل کے روز گرفتار کر لیا، جو ان کی سرکاری ملازمت کا آخری دن بھی تھا۔
تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ صرف 169 کروڑ روپے تک محدود نہیں بلکہ 504 کروڑ روپے کے ایک بڑے بینکنگ گھوٹالے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ہریانہ کے آٹھ سرکاری محکموں کے فنڈز جعلی یا غیر موجود فکسڈ ڈپازٹ کے نام پر مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے اور بعد میں انہیں شیل کمپنیوں کے ذریعے نکال لیا گیا۔
ابتدائی طور پر اس معاملے کی جانچ ہریانہ اسٹیٹ ویجیلنس اور انسداد بدعنوانی بیورو کر رہا تھا، لیکن بعد میں ہریانہ حکومت نے کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کر دیں۔
سی بی آئی کے مطابق، اب تک اس معاملے میں 17 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے، جن میں IDFC فرسٹ بینک اور AU سمال فائنانس بینک کے چھ اہلکار، ہریانہ کے تین سرکاری افسران، دو نجی کمپنیاں اور ان کے چھ ملازمین شامل ہیں۔ پردیپ کمار کی گرفتاری سے قبل بھی دو اعلیٰ سرکاری افسران کو اس کیس میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔



