قومی خبریں

غیر قانونی حراست اور جعلی گرفتاری کا معاملہ، 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا عدالتی حکم

سابق فوجی کی مبینہ غیر قانونی حراست اور جعلی گرفتاری کے معاملے میں عدالت کا حکم

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) جیوتی اگروال کی عدالت نے ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے صدر بازار تھانے کے اس وقت کے انچارج انسپکٹر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان اہلکاروں پر ایک سابق فوجی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں لینے، جعلی گرفتاری ظاہر کرنے اور فرضی دستاویزات تیار کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے کی تفتیش صدر بازار تھانے کے بجائے کسی دوسرے تھانے کے سینئر افسر سے کرائی جائے۔

یہ معاملہ چنور کی رہائشی بینا کماری کی درخواست پر سامنے آیا۔ درخواست کے مطابق 14 مارچ 2026 کو بریلی اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) میں تعینات کانسٹیبل دلیپ سنگھ اور اس کے بھائی سندیپ سنگھ مبینہ طور پر پرانی دشمنی کی بنیاد پر ان کے گھر پہنچے، جہاں خواتین کے ساتھ بدسلوکی، مارپیٹ اور چھیڑ چھاڑ کی گئی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ کچھ دیر بعد دو پولیس اہلکار ستیہ ویر سنگھ، جو ایک سابق فوجی ہیں، کو زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا کر صدر بازار تھانے لے گئے۔ الزام ہے کہ انہیں 14 مارچ کی صبح سے غیر قانونی طور پر تھانے میں رکھا گیا، جبکہ تقریباً چھ گھنٹے بعد ان کے خلاف ایک دوسرے مقدمے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پولیس نے اگلے روز 15 مارچ کو یہ ظاہر کیا کہ ستیہ ویر سنگھ کو چنور چوراہے کے قریب اونتی بائی پارک سے گرفتار کیا گیا، حالانکہ وہ پہلے ہی پولیس کی تحویل میں تھے۔

سماعت کے دوران چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے 14 اور 15 مارچ کی جنرل ڈائری (جی ڈی) اور دیگر ریکارڈ کا جائزہ لیا، جس میں متعدد تضادات سامنے آئے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اعلیٰ حکام کی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ ستیہ ویر سنگھ کو 14 مارچ کی صبح 9:37 بجے تھانے لایا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے جنرل ڈائری میں کوئی اندراج موجود نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی پایا کہ گرفتاری کے میمو اور پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی ریکارڈ میں بھی کئی تضادات موجود ہیں، جو درخواست گزار کے الزامات کی ابتدائی طور پر تائید کرتے ہیں۔

ایڈوکیٹ پریم چوہان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور دیگر دستاویزات میں موجود تضادات کو عدالت کے سامنے رکھا، جس کے بعد عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button