بنگلورو ڈے کیئر اسکینڈل: بچوں کو واشنگ مشین میں ڈالنے اور تشدد کا انکشاف
بنگلورو ڈے کیئر میں معصوم بچوں پر ظلم؛ واشنگ مشین میں ڈالا، ٹوائلٹ جیٹ سے پانی پھینکا اور باتھ روم میں بند کیا گیا
بنگلورو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)شہر کے ایک ڈے کیئر سنٹر میں معصوم بچوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دو سے تین سال عمر کے بچوں کو زبردستی واشنگ مشین میں بٹھایا گیا، ان کے چہروں پر ٹوائلٹ جیٹ سے پانی پھینکا گیا اور رونے پر انہیں باتھ روم میں بند کر دیا گیا۔
یہ واقعہ بنگلورو میں واقع آئی ٹی کمپنی Capgemini کے ایچ اے ایل کیمپس میں چلنے والے ڈے کیئر سنٹر کا ہے۔ بچوں کے ساتھ مبینہ تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن حکام حرکت میں آ گئے۔
پروبیشن افسر تلکیشور کمار کے مطابق ڈے کیئر سنٹر میں 50 سے 60 بچوں کا اندراج تھا، جبکہ روزانہ 15 سے 20 بچے وہاں آتے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا اور اس سے قبل بھی ایک شخص نے انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ شکایت کرنے والے سابق ملازم کو بعد میں نوکری سے نکال دیا گیا۔
وائرل ویڈیوز میں کم عمر بچوں کو واشنگ مشین کے ڈرم کے اندر بٹھایا گیا ہے، جبکہ بعض مناظر میں ان کے چہروں پر پانی کا تیز چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ کچھ ویڈیوز میں بچوں کو باتھ روم میں بند بھی دکھایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق بچوں کو خاموش کرانے اور ڈرانے کے لیے یہ اقدامات کیے جاتے تھے۔
ویڈیوز سامنے آنے کے بعد چائلڈ ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے پانچ خواتین کی دیکھ بھال کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ویڈیوز کو بھی کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایچ اے ایل پولیس نے ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری جانب کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت اور بہبود اس کی اولین ترجیح ہے، اس لیے احتیاطی اقدام کے طور پر ڈے کیئر سنٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔
اس واقعے نے والدین میں شدید غم و غصہ اور تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ بڑی کمپنیوں کے کیمپس میں قائم ڈے کیئر مراکز کی حفاظت اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔



