بین ریاستی خبریںسرورق

مہاراشٹر میں اسکولوں کے قریب اسٹنگ انرجی ڈرنک کی فروخت پر پابندی

500 میٹر کے دائرے میں انرجی ڈرنکس اور نشہ آور اشیا کی فروخت ممنوع، بچوں کی صحت پر اثرات کے پیش نظر فیصلہ

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر حکومت نے جمعہ 3 جولائی کو فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسکولوں کے 500 میٹر کے دائرے میں ‘اسٹنگ’ (Sting) انرجی ڈرنک اور دیگر نشہ آور اشیا کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی۔ حکومت نے یہ قدم بچوں کی صحت پر انرجی ڈرنکس کے ممکنہ مضر اثرات کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے خوراک اور ادویات کے وزیر نرہری  نے کہا کہ انرجی ڈرنکس میں موجود بعض اجزا بچوں کے لیے مناسب نہیں سمجھے جاتے، اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کو اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو بھی طلبہ میں بیداری پیدا کرنے اور انرجی ڈرنکس کے صحت پر منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پروگرام منعقد کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق زیادہ تر انرجی ڈرنکس میں کیفین اور چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو بچوں اور کم عمر نوجوانوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

وزیر نرہری نے اسمبلی میں کہا، "معزز رکن کی جانب سے اسکولوں کے اطراف ‘اسٹنگ’ انرجی ڈرنک کی فروخت کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات کسی حد تک درست ہیں۔ اگر کسی بھی اسکول کے 500 میٹر کے اندر ایسی انرجی ڈرنکس یا دیگر نشہ آور اشیا فروخت ہوتی پائی گئیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔”

اس دوران وکرم پچپوتے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت 18 سال سے کم عمر بچوں کو ‘اسٹنگ’ انرجی ڈرنک فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے کوئی قانون لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بحث کے دوران اراکین اسمبلی راہل کل اور ورون سردیسائی نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بچوں کو ان مشروبات کی آسان دستیابی روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔

وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت اسکولوں کی سطح پر آگاہی مہم کو مزید مضبوط بنائے گی اور مجوزہ پابندی پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button