‘یہ پاکستان نہیں’ ریمارک پر سائبرآباد پولیس کے کانسٹیبل کے خلاف انکوائری شروع
گچی باؤلی میں پارکنگ تنازع کے دوران مسلم خاتون اور انکے بیٹے سے مبینہ بدسلوکی
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن ڈیسک) سائبرآباد پولیس نے گچی باؤلی میں پارکنگ تنازع کے دوران ایک مسلم خاندان کے خلاف مبینہ طور پر فرقہ وارانہ ریمارک کرنے والے ٹریفک کانسٹیبل کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
سائبرآباد ٹریفک کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سائی منوہر نے جمعہ 3 جولائی کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کانسٹیبل جے ملیشام کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، تاحال کانسٹیبل کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
تحریری شکایت کے مطابق، یہ واقعہ جمعرات 2 جولائی کو گچی باؤلی-رائیڈرگ روڈ پر IKEA ایگزٹ گیٹ کے سامنے واقع ایک پٹرول پمپ کے باہر پیش آیا۔ محمد سمیر نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بیٹے نے اپنی دو موٹر سائیکلیں سڑک کے ایک بند حصے میں رکاوٹوں کے پیچھے کھڑی کی تھیں، جہاں پہلے سے تین دیگر بائیکس بھی موجود تھیں۔
جب خاندان اپنی موٹر سائیکلیں لینے کے لیے واپس آیا تو راستہ رکاوٹوں کی وجہ سے بند تھا۔ انہوں نے وہاں موجود ٹریفک اہلکار سے درخواست کی کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں تاکہ وہ اپنی موٹر سائیکلیں نکال سکیں۔ اس پر کانسٹیبل نے مبینہ طور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ پاکستان یا افغانستان نہیں ہے کہ آپ جہاں چاہیں اپنی گاڑیاں کھڑی کر دیں۔”
شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ کانسٹیبل نے مسلم خاتون اور انکے بیٹے کے ساتھ بدتمیزی کی، انہیں جسمانی تشدد کی دھمکیاں دیں اور بعد میں اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کر دی۔
"This is not Pakistan and Afghanistan to park as you like.”
A Cyberabad traffic constable, identified as J Mallesham, has been accused of making a communal remark to a Muslim woman and her teenage son during a dispute over a parked motorcycle near Gachibowli on Tuesday, July 2. pic.twitter.com/41BB2iLfe4
— Osama Salman (@salmanosama) July 2, 2026
واقعے کے بعد محمد سمیر نے سائبرآباد کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ٹریفک) کو تحریری شکایت ارسال کرتے ہوئے متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد حقائق کی بنیاد پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔



