مذہبی آزادی دوسروں کے جذبات مجروح کرنے کا لائسنس نہیں: کلکتہ ہائی کورٹ
رام کرشن مشن کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے منسوخ،
کولکاتا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لیکن اس حق کو دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا ان کے عقائد کی توہین کرنے کی اجازت نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالت نے مغربی بنگال کے نارندر پور میں واقع رام کرشن مشن کالج میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تمول داس گپتا کی تقرری منسوخ کرتے ہوئے کالج کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ڈویژن بنچ، جس میں جسٹس دیبانگسو بساک اور جسٹس محمد شبّر رشیدی شامل تھے، نے کہا کہ امیدوار کی سوشل میڈیا پوسٹس دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ داس گپتا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دوسرے مذاہب، رام کرشن مشن اور اس کے سادھوؤں کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے۔ عدالت نے کہا کہ کالج کی جانب سے تقرری سے انکار کرنے کا فیصلہ ان کے اظہارِ رائے یا مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کالج نے نہ تو درخواست گزار کو اپنے خیالات کے اظہار سے روکا اور نہ ہی اسے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے منع کیا، بلکہ تعلیمی ادارے کے مفاد میں اس کی تقرری مناسب نہیں سمجھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ کسی امیدوار کو انتخابی عمل میں منصفانہ غور کا حق حاصل ہے، لیکن اسے ملازمت حاصل کرنے کا مطلق حق حاصل نہیں ہوتا۔ اگر تعلیمی ادارہ نیک نیتی، غیر جانبداری اور ادارے کے بہترین مفاد میں کسی امیدوار کی تقرری مسترد کرتا ہے تو اسے من مانی کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔
رام کرشن مشن کالج کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ داس گپتا کی سوشل میڈیا پوسٹس ادارے کے بنیادی نظریات اور فلسفے سے متصادم ہیں، اس لیے ان کی تقرری قبول نہیں کی جا سکتی۔



