خامنہ ای کے جنازے میں دنیا بھر کے رہنما شریک، تین خلیجی ممالک کی عدم شرکت نے سب کی توجہ کھینچ لی۔
تہران میں سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں دنیا بھر کے وفود شریک
تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ پیر کی صبح تہران کے امام حسین اسکوائر سے شروع ہوئی۔ جنازے کا آغاز ایران کے قومی ترانے سے ہوا، جبکہ صبح سویرے سے ہی ہزاروں افراد سڑکوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی وفود ایران پہنچے۔ تاہم، مسلم ممالک اس معاملے میں منقسم نظر آئے اور بعض اہم خلیجی ممالک نے اپنے نمائندے تہران نہیں بھیجے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر، آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان، جارجیا کے صدر میخائل کاویلاشویلی، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان اور عراق کے کردستان ریجن کے صدر نیچروان بارزانی سمیت کئی عالمی رہنما جنازے میں شریک ہوئے۔
چین نے ایک خصوصی ایلچی اور روس نے ایک سینئر نمائندہ بھی تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا، جبکہ ترکی کے نائب صدر نے بھی ذاتی طور پر تہران کا دورہ کیا۔
دوسری جانب، تین اہم خلیجی مسلم ممالک، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت نے خامنہ ای کے جنازے میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست اور علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔
بھارت کی جانب سے بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریٹا نے ایران میں منعقدہ آخری رسومات میں شرکت کی۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔ تہران، قم اور مشہد میں جلوسوں کے علاوہ عراق میں بھی تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ ایران نے بعض دنوں میں عوامی تعطیل اور فضائی حدود پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔



