بین ریاستی خبریںسرورق

امروہہ حلالہ کیس: الہ آباد ہائی کورٹ نے نابالغ کے استحصال کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی

عدالت کا اہم مشاہدہ، مذہبی رسومات یا پرسنل لاء کی آڑ میں نابالغ کے جنسی استحصال کو کسی صورت تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔

امروہہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے امروہہ میں مبینہ نکاحِ حلالہ اور نابالغ لڑکی کے جنسی استحصال سے متعلق درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی رسومات یا پرسنل لاء کی آڑ میں کسی بھی فوجداری جرم کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ اگر کسی مذہبی روایت کے نام پر کسی نابالغ کی عزت، آزادی اور جسمانی سالمیت متاثر ہوتی ہے تو آئین اور فوجداری قانون کو فوقیت حاصل ہوگی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ شادی کے چند ماہ بعد اسے مبینہ طور پر مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑا اور اسے تین طلاق دے دی گئی۔ بعد ازاں شوہر کی دوبارہ شادی کی خواہش پر لڑکی کو نکاحِ حلالہ کے عمل سے گزرنے کے لیے کہا گیا۔

الزامات کے مطابق ایک مولوی نے حلالہ کی آڑ میں نابالغ لڑکی سے جبری جسمانی تعلق قائم کیا۔ بعد میں دوسری مرتبہ طلاق کے بعد اسے دوبارہ دو حلالوں سے گزرنے کے لیے مجبور کیا گیا، جس کے دوران فروری 2025 میں دو افراد نے اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا۔ عدالت نے اس معاملے کو بظاہر گینگ ریپ کے زمرے میں قرار دیا۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ POCSO ایکٹ کے تحت 18 سال سے کم عمر فرد کے ساتھ جنسی تعلق، خواہ رضامندی سے ہی کیوں نہ ہو، ایک قابل سزا جرم ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے 2017 کے تاریخی فیصلے انڈیپنڈنٹ تھاٹ بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نابالغ بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق بھی ریپ تصور کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ نکاح اور حلالہ کو مذہبی اعتبار سے جائز سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں نابالغ کے بنیادی حقوق متاثر ہوں تو یہ معاملہ فوجداری قانون کے دائرے سے باہر نہیں رہتا۔

یہ معاملہ نکاحِ حلالہ اور مسلم پرسنل لاء پر جاری وسیع قانونی بحث کو بھی دوبارہ مرکزِ نگاہ بنا رہا ہے۔ 2017 میں سپریم کورٹ نے شائرہ بانو بنام یونین آف انڈیا مقدمے میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جبکہ حلالہ اور تعددِ ازدواج کے معاملات سے متعلق متعدد درخواستیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق امروہہ کیس نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا مذہبی روایات کے نام پر خواتین اور نابالغوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے حالیہ فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت مساوات، عزت اور باوقار زندگی کے حقوق ہر روایت اور رسم سے بالاتر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button