واٹس ایپ پر یہ میسج آیا تو فوراً الرٹ ہو جائیں، ایک غلطی سے بینک اکاؤنٹ خالی ہو سکتا ہے
ماہرین نے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی کروڑوں لوگ روزانہ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔ میسج بھیجنے، ویڈیو کال کرنے اور اہم معلومات شیئر کرنے کے لیے یہ سب سے مقبول ایپ بن چکی ہے۔ تاہم اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ سائبر فراڈ کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
سائبر مجرم اب واٹس ایپ کے ذریعے جعلی نوکریوں، فرضی انعامات، بینک اپ ڈیٹ، کے وائی سی اور سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان دھوکہ دہی سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی نامعلوم نمبر سے اچانک کوئی میسج موصول ہو جس میں نوکری، انعام یا کسی خصوصی آفر کا لالچ دیا جائے تو فوری طور پر اس پر بھروسہ نہ کریں۔ ایسے نمبروں کو جواب دینے کے بجائے بلاک اور رپورٹ کرنا بہتر ہے۔
اسی طرح واٹس ایپ پر موصول ہونے والے کسی بھی لنک پر کلک کرنے سے پہلے اس کی اچھی طرح جانچ کر لیں۔ کئی جعلی لنکس بینک، سرکاری ویب سائٹس یا مشہور کمپنیوں کی ویب سائٹس جیسے نظر آتے ہیں اور صارفین کو لاگ اِن یا کے وائی سی اپ ڈیٹ کرنے کے بہانے دھوکہ دیتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں اپنا او ٹی پی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ بینک یا کوئی سرکاری ادارہ کبھی بھی واٹس ایپ پر او ٹی پی طلب نہیں کرتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کے کہنے پر موبائل کی اسکرین شیئر کرنے سے بھی گریز کریں کیونکہ اس سے آپ کی ذاتی اور بینکنگ معلومات چوری ہو سکتی ہیں۔
سائبر ٹھگ اب رشتہ داروں کے نام پر بھی فراڈ کر رہے ہیں۔ وہ نئے نمبر سے میسج کرکے خود کو بیٹا، بیٹی، بھائی یا کسی قریبی عزیز کے طور پر ظاہر کرتے ہیں اور ہنگامی ضرورت کا بہانہ بنا کر رقم طلب کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں پیسے بھیجنے سے پہلے متعلقہ شخص کے پرانے نمبر پر رابطہ کرکے تصدیق ضرور کر لینی چاہیے۔
واٹس ایپ میں موجود سیکیورٹی فیچرز جیسے ٹو اسٹیپ ویریفکیشن، سائلنس اَن نون کالرز اور پرائیویسی سیٹنگز کو فعال کرکے بھی اکاؤنٹ کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی مشکوک یا جعلی میسج موصول ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے فوراً رپورٹ اور بلاک کریں تاکہ دوسرے صارفین بھی اس طرح کی دھوکہ دہی سے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر ٹھگ عموماً لوگوں کی جلد بازی اور لاپروائی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے کسی بھی میسج، لنک یا آفر پر بھروسہ کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرنا ضروری ہے۔



