سرورققومی خبریں

اوڈیشہ کی نئی ووٹر فہرست جاری، 20 لاکھ سے زائد نام خارج، ووٹروں کی تعداد 3.13 کروڑ

خصوصی نظرثانی مہم کے بعد مردہ، منتقل شدہ اور دوہری اندراج والے ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، حتمی فہرست 6 ستمبر کو جاری ہوگی۔

بھونیشور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اوڈیشہ میں خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے بعد ووٹر لسٹ سے 20 لاکھ سے زائد افراد کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ اتوار کو جاری ہونے والی مسودہ ووٹر فہرست کے مطابق ریاست میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 3.33 کروڑ سے کم ہو کر 3.13 کروڑ رہ گئی ہے۔

ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر آر ایس گوپالن نے بتایا کہ نظرثانی کے دوران فوت شدہ، دوسری جگہ منتقل ہونے والے، دوہری اندراج رکھنے والے اور تصدیق کے دوران غیر حاضر پائے جانے والے ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے ہیں۔

30 مئی سے 28 جون تک چلنے والی خصوصی نظرثانی مہم کے بعد تیار کی گئی نئی فہرست میں 1.60 کروڑ مرد، 1.53 کروڑ خواتین اور 2,775 تھرڈ جینڈر ووٹر شامل ہیں۔

انتخابی حکام کے مطابق خارج کیے گئے 20 لاکھ ووٹروں میں سے 8.32 لاکھ افراد فوت ہو چکے تھے، جبکہ 10.07 لاکھ افراد دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے یا نظرثانی کے دوران دستیاب نہیں تھے۔ اس کے علاوہ 1.58 لاکھ ووٹروں کے نام ایک سے زائد حلقوں میں درج پائے گئے، جنہیں حذف کر دیا گیا۔ تقریباً 14 ہزار افراد نے بوتھ لیول افسران (BLO) کو مطلوبہ فارم جمع نہیں کرایا۔

چیف الیکٹورل آفیسر نے کہا کہ جن افراد کے نام مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہیں، وہ اپنے دعوے یا اعتراضات بوتھ لیول افسر، ECINet موبائل ایپ یا الیکشن کمیشن کے پورٹل کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔ دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ 4 اگست مقرر کی گئی ہے، جبکہ حتمی ووٹر فہرست 6 ستمبر کو شائع کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کے 147 الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ERO) اور 994 اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران (AERO) تمام دعووں اور اعتراضات کی جانچ کریں گے اور ضرورت پڑنے پر اضافی افسران بھی تعینات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے نائب صدر دیوی پرساد مشرا نے دعویٰ کیا کہ 20 لاکھ نہیں بلکہ 27 لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے ہیں۔ کانگریس کے رہنما رام چندر قدم نے الزام لگایا کہ حکمراں بی جے پی کے مخالف سمجھے جانے والے ووٹروں کے نام سازش کے تحت ہٹائے گئے ہیں۔

تاہم بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی الیکشن کمیشن نے کی ہے، نہ کہ بی جے پی نے۔ پارٹی کے رکن اسمبلی بابو سنگھ نے کہا کہ اگر کسی کو مسودہ فہرست پر اعتراض ہے تو وہ مناسب طریقے سے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنا دعویٰ یا اعتراض پیش کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button