احمد آباد بم دھماکہ کیس: گجرات ہائی کورٹ نے 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھی
متاثرہ خاندانوں کو 10 لاکھ روپے معاوضے کا حکم
عدالت نے متاثرین کے لیے اہم احکامات بھی جاری کیے۔ ہائی کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت دی کہ بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے 56 افراد کے اہل خانہ کو فی خاندان 10 لاکھ روپے جبکہ 200 سے زائد زخمیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیا جائے۔
26 جولائی 2008 کو احمد آباد شہر میں صرف 70 منٹ کے دوران 21 مقامات پر یکے بعد دیگرے بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان حملوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گردوں نے مصروف بازاروں، بس اسٹینڈز، سڑکوں اور سول اسپتال کو نشانہ بنایا، جہاں زخمیوں کا علاج جاری تھا۔ بعد ازاں احمد آباد اور سورت سے کئی زندہ بم بھی برآمد ہوئے، جنہیں بروقت ناکارہ بنا دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق بم سائیکلوں پر نصب ٹفن بکس میں رکھے گئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے الزام عائد کیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین (IM) نے قبول کی تھی، جبکہ ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) سے وابستہ افراد بھی سازش میں ملوث تھے۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا تھا کہ یہ حملے 2002 کے گجرات فسادات کے انتقام کے طور پر کیے گئے تھے۔
اس مقدمے میں پولیس نے 35 مقدمات درج کیے اور 78 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی۔ تقریباً 14 سال تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران 1,150 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ بعد ازاں 8 فروری 2022 کو خصوصی عدالت نے 6,700 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے 49 ملزمان کو قصوروار قرار دیا، جن میں 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید سنائی گئی، جبکہ 28 ملزمان کو شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا گیا۔
مجرموں نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے تمام سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں مسترد کر دیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کے پاس اب بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا آئینی حق موجود ہے۔



