
راہل گاندھی کے دورۂ دہرادون پر احتجاج کرنے والی بی جے پی خواتین کارکنوں کے خلاف نازیبا تبصرہ، ملزم گرفتار
بی جے پی خواتین کارکنوں پر نازیبا تبصرہ، ایک شخص گرفتار
دہرادون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) راہل گاندھی کے حالیہ دورۂ دہرادون کے خلاف احتجاج کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مہیلا مورچہ کی خواتین کارکنوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر نازیبا، فحش اور توہین آمیز ریمارکس کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت راجندر سنگھ راوت (40) کے طور پر ہوئی ہے، جو نئی دہلی کے اندرا پارک کا رہائشی ہے۔ اس کی گرفتاری بی جے پی مہیلا مورچہ کی ریاستی سیکریٹری نیہا شرما کی جانب سے ہفتہ کو دالان والا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔
شکایت میں کہا گیا کہ فیس بک پر "Pahad Premi Rajendra Uttarakhandi” نامی اکاؤنٹ سے خواتین کارکنوں کے خلاف انتہائی قابل اعتراض، فحش، غیر شائستہ اور توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔ نیہا شرما کے مطابق یہ خواتین کی عزت و وقار پر براہِ راست حملہ ہے اور اس کا مقصد معاشرے میں نفرت، کشیدگی اور اختلافات کو ہوا دینا تھا۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر خواتین کی غیر شائستہ نمائندگی (انسداد) ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ تحقیقات کے دوران ملزم کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لیا گیا اور پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر، خاص طور پر خواتین میں، شدید عوامی غم و غصہ پایا گیا اور خدشہ تھا کہ اس سے امن و امان اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر ملزم کو بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 170 کے تحت گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔
پولیس کے مطابق راجندر سنگھ راوت کا تعلق اصل میں اتراکھنڈ کے ضلع پاؤڑی گڑھوال کے باجواڑ علاقے سے ہے، تاہم وہ اس وقت نئی دہلی میں مقیم تھا۔



