سرورقفلمی دنیا

راجیش کھنہ کی ہیروئن لیلیٰ خان قتل کیس: سوتیلے باپ نے پورے خاندان کو زندہ دفن کردیا، 13 سال بعد سنائی گئی سزائے موت

لیلیٰ خان قتل کیس کی مکمل کہانی، راجیش کھنہ کی ہیروئن کا خوفناک انجام

ممبئی: بالی ووڈ کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ فلم "وفا: اے ڈیڈلی لو اسٹوری” میں اداکاری کرنے والی اداکارہ لیلیٰ خان کی المناک موت آج بھی بھارت کے سب سے ہولناک اجتماعی قتل کے مقدمات میں شمار کی جاتی ہے۔ ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ، جس کے سامنے روشن مستقبل تھا، وہ اپنی والدہ اور چار بہن بھائیوں سمیت اچانک لاپتہ ہوگئی۔ ابتدا میں یہ ایک گمشدگی کا کیس سمجھا گیا، مگر پولیس کی تحقیقات نے ایسا خوفناک راز بے نقاب کیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

فلمی دنیا میں قدم، مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا

لیلیٰ خان، جن کا اصل نام ریشمہ پٹیل تھا، فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انہوں نے 2008 میں ریلیز ہونے والی فلم "Wafaa: A Deadly Love Story” میں راجیش کھنہ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی، لیکن لیلیٰ خان کو فلمی حلقوں میں پہچان ضرور ملی۔

ان کی والدہ سلینا (شیلینا) پٹیل نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی تیسری شادی پرویز اقبال ٹاک سے ہوئی، جو بعد میں اس خوفناک قتل کا مرکزی ملزم بنا۔

فروری 2011 میں لیلیٰ خان، ان کی والدہ سلینا اور چار بہن بھائی اچانک لاپتہ ہوگئے۔ کئی ہفتوں تک ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ موبائل فون بند تھے، گھر خالی تھا اور اہل خانہ یا دوستوں سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پولیس نے ابتدا میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا، لیکن جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، شکوک کا دائرہ پرویز ٹاک تک پہنچ گیا۔

تفتیش میں سامنے آیا کہ پرویز ٹاک اور سلینا کے درمیان جائیداد اور مالی معاملات پر شدید اختلافات تھے۔ استغاثہ کے مطابق سلینا اپنے بچوں کے ساتھ دبئی منتقل ہونا چاہتی تھیں، جبکہ پرویز ٹاک اس فیصلے کے خلاف تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر خاندان چلا گیا تو وہ جائیداد اور دولت سے محروم ہوجائے گا۔اسی لالچ نے اسے ایسا خوفناک منصوبہ بنانے پر آمادہ کیا جس کا تصور بھی لرزا دیتا ہے۔

پرویز ٹاک نے خاندان کو ناسک ضلع کے اگت پوری میں واقع فارم ہاؤس پر چھٹیاں گزارنے کے لیے راضی کیا۔استغاثہ کے مطابق رات کے وقت جب تمام افراد سو رہے تھے تو پرویز ٹاک اور اس کے ساتھی نے پہلے سلینا کو قتل کیا، پھر لیلیٰ خان اور ان کے چار بہن بھائیوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

رپورٹس کے مطابق قتل کے لیے لوہے کی سلاخیں اور تیز دھار ہتھیار استعمال کیے گئے۔قتل کے بعد ملزمان نے فارم ہاؤس میں سوئمنگ پول کے لیے کھودے گئے گڑھے کو اجتماعی قبر میں تبدیل کردیا۔چھ  لاشیں اس گڑھے میں دفن کی گئیں، ان پر گدے ڈالے گئے اور پھر مٹی سے برابر کردیا گیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

اس کے بعد خاندان کی گاڑی کو جموں و کشمیر میں چھوڑ دیا گیا تاکہ پولیس کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ پورا خاندان کہیں اور چلا گیا ہے۔

بارش نے کھول دیا قتل کا راز

کئی ماہ بعد پولیس نے پرویز ٹاک کو گرفتار کیا۔اس کی نشاندہی پر اگت پوری فارم ہاؤس میں کھدائی کی گئی۔ مسلسل بارش کی وجہ سے مٹی بیٹھ چکی تھی، جس سے پولیس کا شک مزید مضبوط ہوگیا۔تقریباً چھ گھنٹے کی کھدائی کے بعد ایک ایک کرکے چھ کنکال برآمد ہوئے، جن کی شناخت بعد میں لیلیٰ خان، ان کی والدہ اور بہن بھائیوں کے طور پر ہوئی۔

طویل قانونی کارروائی، درجنوں گواہوں اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر ممبئی کی سیشن عدالت نے مئی 2024 میں پرویز اقبال ٹاک کو قتل کا مجرم قرار دیا۔عدالت نے اس جرم کو "Rarest of Rare” (نایاب ترین جرم) قرار دیتے ہوئے اسے سزائے موت سنائی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ محض قتل نہیں بلکہ انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اجتماعی قتل تھا، جس نے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

راجیش کھنہ کے ساتھ فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی لیلیٰ خان شاید ایک کامیاب اداکارہ بن سکتی تھیں، لیکن قسمت نے انہیں شہرت کے بجائے ایک ایسی دردناک موت دی جسے بھارت کی کرائم ہسٹری میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی کہانی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے خطرناک دشمن گھر کے اندر ہی موجود ہوتا ہے، اور لالچ انسان کو اس حد تک اندھا کر دیتی ہے کہ وہ پورے خاندان کو ختم کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button