
ناسک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ناسک کی ضلع و سیشن عدالت نے ٹیٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) سے منسلک ایک بی پی او یونٹ میں مبینہ مذہبی تبدیلی، جنسی ہراسانی اور جنسی استحصال کے مقدمے کے مرکزی ملزم دانش شیخ کو ضمانت دے دی ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب متعدد خواتین ملازمین نے الزام لگایا تھا کہ انہیں اپنے بعض ساتھی ملازمین اور سپروائزرز کی جانب سے جنسی ہراسانی، جنسی استحصال اور مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایات کے بعد پولیس نے متعدد ایف آئی آرز درج کیں اور تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی۔
عدالت کا یہ فیصلہ تقریباً دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جب اسی مقدمے میں شریک ملزمان ندا خان اور توصیف عطار کو ضمانت دی گئی تھی، جبکہ اس وقت دانش شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ اب عدالت نے دانش شیخ کو بھی ضمانت دے دی ہے، تاہم عدالتی فیصلے کی تفصیلی وجوہات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
استغاثہ کے مطابق دانش شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون شکایت کنندہ کے مذہبی عقائد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، انہیں اسلامی مذہبی لٹریچر اور برقع فراہم کیا اور مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی۔ پراسیکیوشن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزم کو معلوم تھا کہ شکایت کنندہ کا تعلق درج فہرست ذات (Scheduled Caste) سے ہے، اس کے باوجود اس پر مذہبی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں عدالت سے دانش شیخ کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تحقیقات کے دوران مذہبی دباؤ اور جنسی استحصال سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں۔ تاہم ناسک کی عدالت نے اب ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے، جبکہ مقدمے کی مزید تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
یہ مقدمہ مارچ اور اپریل 2026 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب ناسک کے دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں خواتین ملازمین کی شکایات کی بنیاد پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے۔ شریک ملزمہ ندا خان، جو تقریباً دو ماہ عدالتی حراست میں رہیں، کو رواں ماہ کے آغاز میں ضمانت دی جا چکی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق ندا خان پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے مذہبی تبدیلی کے مبینہ معاملے میں کردار ادا کیا اور ایک شکایت کنندہ کو مذہبی مواد فراہم کیا، تاہم انہوں نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب ٹی سی ایس نے مقدمے میں نامزد ملازمین کو معطل کرتے ہوئے داخلی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی، جنسی ہراسانی اور کسی بھی قسم کے غیر اخلاقی رویے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کرتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔



