سرورققومی خبریں

بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کیس: مسلم فریق دوبارہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، جمعہ کی نماز کے لیے متبادل زمین پر اعتراض

جمعہ کی نماز کے لیے دی گئی متبادل زمین بھوج شالہ سے تقریباً 2 کلومیٹر دور؛ سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت جمعہ کو مقرر کرنے کی ہدایت دی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازعہ کیس میں مسلم فریق نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے جمعہ کی نماز کے لیے فراہم کی گئی متبادل زمین پر اعتراض اٹھایا ہے۔ بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران مسلم فریق نے مؤقف اختیار کیا کہ نماز کے لیے دی گئی جگہ کمال مولا مسجد مقام سے تقریباً دو کلومیٹر دور ہے، جس کی وجہ سے عبادت گزاروں کو دشواری کا سامنا ہے۔

مسلم فریق کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق متبادل زمین کمال مولا مسجد کے قریب فراہم کی جانی چاہیے تھی، مگر انتظامیہ نے جو جگہ مختص کی ہے وہ کافی فاصلے پر واقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ایک جمعہ کی نماز بھی ادا نہیں کی جا سکی، لہٰذا عبوری درخواست پر فوری سماعت کی جائے۔

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کا جائزہ لیں گے اور اگر ضرورت ہوئی تو مناسب تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس موقع پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہدایت دی کہ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعہ کو کی جائے۔

جسٹس جویمالیا باغچی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سابقہ حکم پر اس کی مکمل روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی فریق کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ 14 جولائی کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عبوری انتظام کے طور پر بھوج شالہ-کمال مولا مسجد کے قریب مسلمانوں کے لیے جمعہ کی نماز کی متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز دی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس وقت سالیسٹر جنرل سے دریافت کیا تھا کہ آیا متنازعہ مقام کے آس پاس کوئی کھلی جگہ عبادت کے لیے فراہم کی جا سکتی ہے، تاکہ حتمی فیصلے تک نماز کی ادائیگی جاری رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button