
اتر پردیش: جبری مذہب تبدیلی، اغوا اور زیادتی کیس میں شاکر حسین کو 10 سال قید
"بدایوں عدالت کا اہم فیصلہ، جبری مذہب تبدیلی اور زیادتی کیس میں شاکر حسین کو 10 سال قید۔"
لکھنؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع بدایوں کی فاسٹ ٹریک عدالت نے جبری مذہب تبدیلی، اغوا، غیر قانونی حراست، زیادتی اور دھمکی دینے کے مقدمے میں شاکر حسین کو 10 سال قید اور ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ ضلع بدایوں میں جبری مذہب تبدیلی سے متعلق دفعات کے تحت سنایا جانے والا پہلا فیصلہ ہے۔
خواتین کے خلاف جرائم کے لیے قائم فاسٹ ٹریک عدالت کی جج نیہا گرگ نے شاکر حسین، جو ضلع بدایوں کے علاقے بلسی کے گاؤں رسولی کا رہائشی ہے، کو اغوا، مجرمانہ دھمکی، غیر قانونی حراست، زیادتی اور جبری مذہب تبدیلی سمیت چھ الزامات میں قصوروار قرار دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کونسل مدن لال راجپوت کے مطابق، مقدمہ 27 مئی 2025 کو ایک شخص کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ شاکر حسین نے 21 مارچ 2025 کو شکایت کنندہ کی بیوی اور بیٹی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے خاتون نے کہا کہ شاکر حسین خود کو تعویذ گنڈا کرنے والا عامل (تانترک) ظاہر کرتا تھا اور ان کے بیمار بیٹے کے علاج کے بہانے گھر آتا جاتا تھا۔
خاتون کے مطابق بعد میں ملزم انہیں اور ان کی بیٹی کو ضلع کاس گنج کے علاقے سدھ پورہ میں ایک کمرے میں لے گیا، جہاں دونوں کو غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دورانِ قید انہیں نماز پڑھنے اور مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ بیٹی کو مزاحمت کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ خاتون نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملزم نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور تقریباً تین ماہ تک قید میں رکھا۔
پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد عدالت میں چارج شیٹ پیش کی گئی۔ شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے شاکر حسین کو تمام متعلقہ الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قید اور 1.5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
نوٹ: یہ عدالتی فیصلہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر سنایا گیا ہے۔ اگر اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جاتی ہے تو اس کا قانونی فیصلہ بعد میں ہوگا۔



