قومی خبریں

پرینکا گاندھی کا مودی حکومت سے سوال، ‘وندے ماترم’ پر گھنٹوں بحث ہو سکتی ہے تو تعلیم پر کیوں نہیں؟

طلبہ کے مستقبل پر خاموشی کیوں؟ پارلیمنٹ میں تعلیمی نظام پر بحث کا مطالبہ، پرینکا گاندھی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ میں ‘وندے ماترم’ جیسے موضوع پر آٹھ گھنٹے تک بحث ہو سکتی ہے تو ملک کے تعلیمی نظام اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر بھی سنجیدہ اور طویل بحث ہونی چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن لوک سبھا میں تحریک التوا کے ذریعے نیٹ پیپر لیک اور تعلیمی نظام پر جامع بحث کرانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے تعلیمی نظام کو سیاسی مفادات کا شکار بنا دیا ہے، جبکہ میڈیا بھی عوام کے سامنے اصل مسائل کو اجاگر کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے تو میڈیا کو بھی سچ دکھانے اور عوامی مسائل کو ترجیح دینے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔

دوسری جانب کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بھی نیٹ امتحان کے معاملے پر رول 267 کے تحت فوری بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے پر غیر جانبدارانہ بحث اسی وقت ممکن ہے جب مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

تاہم راجیہ سبھا کے چیئرمین نے رول 267 کے تحت بحث کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اپوزیشن کو کسی دوسرے ضابطے کے تحت معاملہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔ اس پر کھڑگے نے کہا کہ رول 267 کی اپنی آئینی اہمیت ہے اور اپوزیشن گزشتہ کئی دنوں سے اسی ضابطے کے تحت بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے گزشتہ روز اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مبینہ پولیس بدسلوکی کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ خواتین ارکان پارلیمنٹ کو رات دیر تک تھانے میں بٹھانا انتہائی شرمناک عمل ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ نیٹ پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مستقبل جیسے اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں کھلی اور سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button