قومی خبریں

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی پورے مانسون اجلاس سے معطل، خواتین اراکین سے مبینہ غیر پارلیمانی رویے پر کارروائی

خواتین اراکین پارلیمنٹ کی شکایت کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے معطلی کی تجویز پیش کی، جسے لوک سبھا نے منظور کر لیا۔

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران بدھ کے روز ایک بڑا سیاسی تنازع سامنے آیا، جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سینئر رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو خواتین اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے الزام میں پورے مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔ لوک سبھا نے پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال کی جانب سے پیش کی گئی معطلی کی تجویز کو منظوری دے دی، جس کے بعد اسپیکر نے کلیان بنرجی کو فوری طور پر ایوان سے باہر جانے کی ہدایت جاری کر دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لوک سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے فوراً بعد کلیان بنرجی اور ترنمول کانگریس چھوڑ کر این سی پی (ایس پی) میں شامل ہونے والی چند خواتین اراکین پارلیمنٹ کے درمیان تلخ نوک جھونک ہوئی۔ اس تنازع میں متالی باغ، شتابدی رائے اور کاکولی گھوش دستیدار سمیت کئی خواتین اراکین کے نام سامنے آئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق بحث کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور کلیان بنرجی پر خواتین اراکین کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اگرچہ تنازع کی اصل وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم اپوزیشن کے دیگر ارکان نے مداخلت کرکے معاملہ ٹھنڈا کرایا۔

واقعے کے بعد کاکولی گھوش دستیدار، شتابدی رائے اور دیگر خواتین اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور کلیان بنرجی کے خلاف شکایت درج کرائی۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر نے متاثرہ اراکین سے تحریری شکایت طلب کی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ کلیان بنرجی نے نہ صرف خواتین اراکین کے لیے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی بلکہ ان کے ساتھ نامناسب رویہ بھی اختیار کیا، جو پارلیمانی وقار کے منافی ہے۔

شکایت موصول ہونے کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں کلیان بنرجی کی معطلی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اراکین کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا غیر پارلیمانی رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اسپیکر نے تجویز پر ایوان میں ووٹنگ کرائی، جس میں اکثریت نے معطلی کے حق میں ووٹ دیا۔ ووٹنگ کے بعد اعلان کیا گیا کہ کلیان بنرجی کو مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کیا جاتا ہے اور انہیں فوری طور پر ایوان سے باہر جانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

معطل کیے جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلیان بنرجی نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا:”جب ہمارے بچے اور طلبہ سڑکوں پر جدوجہد کرتے ہیں تو ہم ان کے نمائندے ہیں۔ اگر ہم ان کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو کون اٹھائے گا؟ ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ یہ چوروں کی حکومت ہے، جس نے ملک کو بیچ دیا اور پیپر لیک جیسے معاملات سے فائدہ اٹھایا۔”

اس کارروائی کے بعد پارلیمنٹ کے اندر سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اسے خواتین اراکین کے احترام اور پارلیمانی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری قدم قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش بتایا۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کلیان بنرجی کی معطلی کا معاملہ مانسون اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

کلیان بنرجی کی معطلی پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button