قومی خبریں

سی جے پی مظاہرین پر لاٹھی چارج کیس: دہلی ہائی کورٹ کا مرکز اور دہلی پولیس کو نوٹس، چار ہفتوں میں جواب طلب

، سی سی ٹی وی اور ویڈیو شواہد محفوظ رکھنے کا حکم

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر میں سی جے پی (CJP) کے مظاہرین پر مبینہ لاٹھی چارج کے معاملے میں مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی واقعے سے متعلق تمام اہم شواہد، جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج، باڈی کیم ریکارڈنگ اور دیگر ویڈیوز شامل ہیں، محفوظ رکھنے کا حکم بھی دیا تاکہ آئندہ سماعت کے دوران ان کا جائزہ لیا جا سکے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس راجو کی اس دلیل پر سخت برہمی ظاہر کی کہ درخواستیں صرف تشہیر حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کسی درخواست کو محض "پبلسٹی” کے لیے دائر قرار دینے کی بنیاد کیا ہے، اور اس تبصرے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ریمارکس مناسب نہیں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین آئین کے تحت حاصل اپنے پرامن احتجاج کے حق کا استعمال کر رہے تھے، لیکن پولیس نے ان کے خلاف غیر ضروری اور سخت طاقت استعمال کی۔ ان کا الزام تھا کہ خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، حساس اعضا پر حملے ہوئے، کیل لگی لاٹھیاں استعمال کی گئیں اور کئی پولیس اہلکار شناختی بیج بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان الزامات کے ثبوت کے طور پر 110 ویڈیوز موجود ہیں۔

دوسری جانب مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس راجو نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے پرتشدد رویہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ تاہم عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد مرکز اور دہلی پولیس کو چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا، جبکہ درخواست گزاروں کو اس کے بعد جوابِ دعویٰ پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے مزید چار ہفتے دیے گئے ہیں۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 11 ستمبر مقرر کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button