سرورققومی خبریں

1996 بس بم دھماکہ کیس: 29 سال بعد عبدالحمید کی سزائے موت کالعدم، سپریم کورٹ نے نئے ٹرائل کا حکم دیا

نئے سرے سے مقدمہ چلانے کی ہدایت

نئی دہلی، 22 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں):سپریم کورٹ نے راجستھان کے 1996 کے سملیٹی بس بم دھماکہ کیس میں سزا یافتہ عبدالحمید کی سزائے موت اور سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمے کی نئے سرے سے سماعت کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران عبدالحمید کو مؤثر قانونی معاونت اور مناسب دفاع کا موقع نہیں ملا، جس کے باعث منصفانہ ٹرائل کے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ اسی بنیاد پر عدالتِ عظمیٰ نے جے پور میں خصوصی عدالت قائم کرکے کیس کا دوبارہ ٹرائل کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی فوجداری مقدمے میں انصاف کا تقاضا صرف فیصلہ سنانا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ پورا عدالتی عمل آئینی اصولوں کے مطابق شفاف اور منصفانہ ہو۔ عدالت کے مطابق اگر کسی ملزم کو مؤثر قانونی دفاع کا موقع نہ ملے تو سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ دہشت گردی یا سنگین جرائم سے متعلق مقدمات میں بھی آئینی حقوق سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے زور دیا کہ جرم کی نوعیت یا عوامی دباؤ کبھی بھی منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں پر غالب نہیں آ سکتا، کیونکہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فیصلہ مضبوط شواہد اور شفاف عدالتی کارروائی کی بنیاد پر کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے راجستھان ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کو ہدایت دی ہے کہ جے پور میں ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے، جس کی سربراہی سیشن مقدمات کا کم از کم سات سالہ تجربہ رکھنے والا عدالتی افسر کرے۔ عدالت کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئے ٹرائل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرتے ہوئے ایک سال کے اندر فیصلہ سنانے کی کوشش کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر عبدالحمید نجی وکیل کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے تو راجستھان اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی ان کے دفاع کے لیے تجربہ کار سینئر وکیل اور معاون وکیل مقرر کرے تاکہ انہیں مکمل اور مؤثر قانونی نمائندگی حاصل ہو سکے۔

عبدالحمید گزشتہ تقریباً 29 برس سے اس مقدمے کے سلسلے میں جیل میں ہیں اور اب اس کیس کے واحد باقی ملزم ہیں۔ ان کے شریک ملزم سلیم کو سپریم کورٹ پہلے ہی ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر چکی ہے۔ تاہم عدالت نے ہدایت دی ہے کہ نئے ٹرائل کی تکمیل تک عبدالحمید عدالتی تحویل میں رہیں گے۔

واضح رہے کہ راجستھان کے سملیٹی علاقے میں 1996 میں ایک مسافر بس میں ہونے والے بم دھماکے میں 14 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یہ مقدمہ کئی دہائیوں سے عدالتوں میں زیر سماعت رہا اور اب سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اس کی سماعت دوبارہ شروع ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button