
دہلی میں جعلی مارک شیٹ ریکیٹ بے نقاب، دسویں اور بارہویں کے جعلی سرٹیفکیٹس بنانے والے 3 ملزمان گرفتار
"تعلیم میں دھوکہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ بھی ہے۔"
نئی دہلی، 22 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں) دہلی پولیس نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے دسویں اور بارہویں جماعت کی جعلی مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس تیار کرکے فروخت کرنے والے ایک منظم ریکیٹ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شاہدرہ ضلع کی اسپیشل اسٹاف ٹیم نے کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کیا، جن پر الزام ہے کہ وہ طویل عرصے سے جعلی تعلیمی دستاویزات بنا کر لوگوں سے ہزاروں روپے وصول کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق اس معاملے کا آغاز 30 جون کو موصول ہونے والی ایک خفیہ اطلاع سے ہوا، جس میں شاہدرہ کے رہائشی نونیت تیاگی کے جعلی تعلیمی اسناد کے کاروبار میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد اسپیشل اسٹاف نے منصوبہ بندی کے تحت ایک اہلکار کو فرضی گاہک بنا کر ملزم سے رابطہ کروایا۔ اہلکار نے بارہویں جماعت کی مارک شیٹ حاصل کرنے کے بہانے اپنی تصویر، دسویں جماعت کی مارک شیٹ کی نقل اور آدھار کارڈ واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا، جس کے بعد پولیس نے پورے معاملے پر نظر رکھی۔
ثبوت مکمل ہونے پر جی ٹی روڈ پر میرج سینما اور وکاس مال کے قریب چھاپہ مارا گیا، جہاں مرکزی ملزم نونیت تیاگی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے دسویں اور بارہویں جماعت کی دو جعلی مارک شیٹس برآمد ہوئیں۔ مزید پوچھ گچھ میں اس نے اپنے دو ساتھیوں، غازی آباد کے صباب عالم اور دہلی کے موج پور کے فرید احمد سیفی، کے نام بھی ظاہر کیے، جنہیں بعد ازاں الگ کارروائیوں میں گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ اب تک تقریباً 100 سے 150 افراد کو جعلی مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس فراہم کر چکے ہیں۔ ہر دستاویز کے بدلے وہ 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک وصول کرتے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان منسوخ شدہ رورل اوپن اسکولنگ انسٹی ٹیوٹ کے نام کا سہارا لے کر بیک ڈیٹڈ اور جعلی تعلیمی اسناد تیار کرتے تھے تاکہ امیدواروں اور متعلقہ اداروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔
کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ایک لیپ ٹاپ، پرنٹر، جعلی مارک شیٹس، متعدد دستاویزات اور جعلی سرٹیفکیٹس تیار کرنے میں استعمال ہونے والا خام مال بھی ضبط کیا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ آیا اس ریکیٹ کے روابط دیگر ریاستوں تک بھی پھیلے ہوئے ہیں یا نہیں۔ حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ملازمت یا داخلے کے لیے صرف تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے جاری شدہ اصل اسناد ہی استعمال کریں، کیونکہ جعلی دستاویزات کا استعمال سنگین قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔



