
دہلی احتجاج میں پیلیٹ گن کے استعمال کا دعویٰ، زخمی نوجوان کی تصاویر وائرل، تحقیقات کا مطالبہ تیز
"دہلی احتجاج میں پیلیٹ گن کے مبینہ استعمال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔"
حیدرآباد (محمد مبشرالدین خرم) :ملک کے دارالحکومت دہلی میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران ایک نوجوان کے زخمی ہونے کے بعد پیلیٹ گن کے مبینہ استعمال کا معاملہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں زخمی نوجوان کے چہرے اور گردن پر متعدد زخم دکھائی دے رہے ہیں، جنہیں ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر دھاتی چھرروں سے ہونے والی چوٹیں قرار دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شیخ ارشاد منصوری نامی نوجوان، جو 20 جولائی کو جنتر منتر کے قریب احتجاج میں شریک تھے، علاج کے لیے اسپتال منتقل کیے گئے جہاں ڈاکٹروں نے ان کے چہرے سے متعدد چھررے نکالنے کی سرجری کی۔ معالجین کے مطابق آنکھ کے نیچے موجود چھرہ بھی کامیابی سے نکال لیا گیا، تاہم گردن میں پھنسے ایک اور چھرے کو نکالنے کے لیے مزید سرجری کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخم حساس اعضا کو متاثر کریں تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے پیلیٹ گن استعمال کرنے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس نہ تو ایسی بندوق موجود ہے اور نہ ہی احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لیے اس کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے اس بیان کے بعد توجہ ان نیم فوجی دستوں کی جانب مبذول ہوئی جو احتجاج کے دوران سکیورٹی انتظامات میں شامل تھے، تاہم اس حوالے سے کسی بھی متعلقہ فورس نے باضابطہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کی۔
زخمی نوجوان ارشاد منصوری کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ چہرے اور گردن پر موجود نشانات لاٹھی چارج یا دیگر ہجوم کنٹرول اقدامات کا نتیجہ ہیں، لیکن طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ جسم میں دھاتی چھررے موجود ہیں۔ اسی دوران ایک اور نوجوان کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اپنے جسم پر موجود ایسے ہی زخم دکھا رہا ہے، جنہیں سوشل میڈیا صارفین پیلیٹ گن سے جوڑ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پیلیٹ گن ایک ایسی ہتھیار نما بندوق ہے جو ایک ہی فائر میں متعدد دھاتی چھررے خارج کرتی ہے۔ اگر یہ چھررے آنکھ، گردن یا جسم کے حساس حصوں پر لگ جائیں تو شدید جسمانی نقصان یا مستقل معذوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس ہتھیار کے استعمال پر ماضی میں بھی انسانی حقوق کے ادارے تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اگر احتجاج کے دوران واقعی پیلیٹ گن استعمال ہوئی ہے تو اس کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں کشمیر، منی پور اور کسانوں کے احتجاج کے دوران بھی پیلیٹ گن کے استعمال پر شدید تنقید سامنے آ چکی ہے۔ موجودہ واقعے نے ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں میں طاقت کے استعمال، شہری آزادیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقۂ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نوٹ: اس معاملے میں پیلیٹ گن کے استعمال کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم دہلی پولیس نے اس الزام کی واضح طور پر تردید کی ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔



