قومی خبریں

حکومت کی یقین دہانی: 20 جولائی کے پرامن مظاہرین پر کوئی مقدمہ نہیں، سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کردی

حکومت نے پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور نیٹ امتحانی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کی یقین دہانی کرائی

نئی دہلی، 24 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیز): سماجی کارکن سونم وانگچک نے حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی موصول ہونے کے بعد اپنی 26 روزہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ 20 جولائی کو دہلی میں ہونے والے پرامن احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ میں شریک طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد وانگچک نے اپنی احتجاجی تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔

سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے گڑگاؤں کے اسپتال میں ان سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی پیش کی۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کسی قسم کی انتقامی یا قانونی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ طلبہ کے تحفظ اور اظہارِ رائے کے حق کا احترام کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی یقین دہانی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے واقعات اور امتحانی نظام میں ضروری اصلاحات کے معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرائی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ نیٹ پیپر لیک سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مناسب امدادی اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔

وانگچک نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح احتجاج میں شریک نوجوانوں کو کسی بھی قانونی کارروائی سے محفوظ رکھنا تھی۔ ان کے مطابق اس مطالبے پر حکومت کے ساتھ دو روز تک مسلسل بات چیت جاری رہی، جس کے بعد تحریری یقین دہانی دی گئی اور انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 65 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے بھی ان سے ملاقات یا رابطہ کرکے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ وانگچک کے مطابق حکومت نے پارلیمنٹ میں نیٹ امتحان اور مجموعی امتحانی نظام پر سنجیدہ بحث کرانے کا وعدہ کیا ہے، جسے وہ مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سونم وانگچک نے 28 جون کو نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے معاملے میں جوابدہی اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے ساتھ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ طویل احتجاج کے دوران ان کی صحت متاثر ہوئی اور ان کا وزن بھی نمایاں طور پر کم ہوگیا۔ بعد ازاں دہلی پولیس کی جانب سے انہیں جنتر منتر سے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ عدالتی کارروائی کے بعد انہیں اپنی پسند کے نجی اسپتال میں علاج کی اجازت دی گئی۔ اب حکومت کی تحریری یقین دہانی کے بعد ان کی 26 روزہ بھوک ہڑتال اختتام پذیر ہوگئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button