قومی خبریں

انکیت شرما قتل کیس: دہلی پولیس کا طاہر حسین سمیت 5 مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ

کرکڑڈوما عدالت میں انکیت شرما قتل کیس کی سماعت، جہاں طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کی سزا پر دلائل دیے جا رہے ہیں۔

 نئی دہلی، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) دہلی فسادات 2020 کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکیت شرما کے قتل کے مقدمے میں دہلی پولیس نے پیر کے روز کرکڑڈوما عدالت سے سابق عام آدمی پارٹی (AAP) کے کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ مجرموں کو سزائے موت دینے کی درخواست کی۔ عدالت میں اس وقت سزا کے تعین (Quantum of Sentence) پر فریقین کے دلائل جاری ہیں۔

سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعہ انتہائی سفاکانہ نوعیت کا ہے اور اسے "نایاب ترین جرم” (Rarest of Rare) کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے، لہٰذا مجرموں کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ دہلی پولیس کے مطابق ملزمان نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے انکیت شرما کو بے رحمی سے قتل کیا۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مقتول کی لاش برآمد ہونے کے وقت ان کے جسم پر صرف زیر جامہ موجود تھا۔ استغاثہ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انکیت شرما کے جسم پر 51 زخم پائے گئے، جن میں 16 گہرے زخم تیز دھار ہتھیار سے لگائے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کے بعد بھی لاش کی بے حرمتی کی گئی، جو جرم کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

دوسری جانب طاہر حسین کے وکیل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ یہ مقدمہ "نایاب ترین جرم” کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اس میں سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے۔ دفاع نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ سماعت استغاثہ بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعہ 120B کے تحت مجرمانہ سازش کے الزام کو حتمی اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

وکیلِ دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ سزا کا تعین کرتے وقت ان نکات کو مدنظر رکھا جائے اور مجرموں کو نسبتاً کم سزا دی جائے۔

عدالتی کارروائی کے دوران 91 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ مقدمے میں نامزد 11 ملزمان میں سے 5 کو مجرم قرار دیا گیا جبکہ 6 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

کرکڑڈوما عدالت اب استغاثہ اور دفاع کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد طاہر حسین سمیت پانچوں مجرموں کی سزا سے متعلق اپنا فیصلہ سنائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button