
25 سال بعد فلسطینی اسیر احمد خضر اسرائیلی جیل سے رہا، قلندیا کیمپ میں تاریخی استقبال
احمد خضر کی 25 سال بعد رہائی فلسطینی قیدیوں کے مسئلے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس، 27 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیز) قابض اسرائیلی حکام نے طویل قید کاٹنے والے فلسطینی اسیر احمد خضر کو 25 برس بعد رہا کر دیا، جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا پناہ گزین کیمپ میں ان کی واپسی پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ، رشتہ داروں اور بڑی تعداد میں مقامی شہریوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور کئی برسوں بعد آزادی ملنے پر مسرت کا اظہار کیا۔
اطلاعات کے مطابق احمد خضر کو سنہ 2001 میں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد انہیں اسرائیلی جیل سے رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے واپس پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔
احمد خضر ایک ایسے فلسطینی مہاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جسے 1948 کے واقعات کے دوران اپنے آبائی گاؤں بئر معین سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ ان کا خاندان اس کے بعد قلندیا پناہ گزین کیمپ میں آباد ہوا، جہاں احمد خضر نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔ گرفتاری سے قبل وہ انتفاضہ دوم کے دور کے اہم حالات اور واقعات کے عینی شاہد بھی رہے۔
ان کی رہائی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب اسرائیلی جیلوں میں اب بھی ہزاروں فلسطینی قید ہیں۔ فلسطینی ادارے اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ زیر حراست افراد کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں اور انتظامی حراست سمیت دیگر متنازع اقدامات پر نظرثانی کی جائے۔
فلسطینی قیدیوں کے امور پر کام کرنے والے اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں جولائی کے آغاز تک اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 400 سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں 3 ہزار 244 افراد انتظامی حراست کے تحت رکھے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں وہ فلسطینی شامل نہیں جنہیں اسرائیلی فوج کے بعض خفیہ فوجی حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق احمد خضر کی رہائی ان فلسطینی خاندانوں کے لیے امید کی علامت ہے جن کے عزیز برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، تاہم فلسطینی قیدیوں کا مسئلہ اب بھی خطے کے اہم انسانی حقوق کے معاملات میں شمار ہوتا ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر توجہ اور سفارتی کوششوں کا مطالبہ بدستور جاری ہے۔



