
پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت دوسری شادی قابلِ قبول نہیں، کرناٹک ہائی کورٹ
اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کا انتخاب کرنے والے افراد اس قانون کی تمام لازمی شرائط کے پابند ہوتے ہیں۔
بنگلورو، 28 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): کرناٹک ہائی کورٹ نے دوسری شادی سے متعلق ایک اہم قانونی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مسلمان مرد کی پہلی شادی بدستور قانونی طور پر برقرار ہو تو وہ اسپیشل میرج ایکٹ، 1954 کے تحت دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی شادی قانون کی نظر میں باطل ہوگی اور بعد میں ذاتی مذہبی قوانین کا حوالہ دے کر اسے درست ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ جسٹس سچن شنکر ماگدم نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا۔ مقدمہ ایک ایسی خاتون کی درخواست پر سامنے آیا جس نے خود کو مرحوم شخص کی دوسری بیوی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں بھی قانونی وارث کے طور پر مقدمے میں شامل کیا جائے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی شادی 24 اپریل 2008 کو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی۔
ریکارڈ اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے پایا کہ مذکورہ شخص کی پہلی شادی اس وقت بھی برقرار تھی اور پہلی بیوی زندہ تھیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ دوسری شادی اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعہ 4(اے) کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس قانون کے مطابق شادی کے وقت دونوں فریقین میں سے کسی کا بھی شریکِ حیات زندہ نہیں ہونا چاہیے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اسپیشل میرج ایکٹ ایک خودمختار اور سیکولر قانون ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اس قانون کے تحت شادی کرتا ہے تو وہ اس کی تمام لازمی شرائط کا پابند ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ بعد میں مسلم پرسنل لا یا کسی دوسرے ذاتی قانون کا سہارا لے کر اس قانونی شرط سے استثنا حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا بعض حالات میں مسلمان مرد کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دیتا ہے، تاہم عدالت نے کہا کہ یہ اصول صرف ان شادیوں پر لاگو ہوتا ہے جو مسلم پرسنل لا کے تحت انجام دی گئی ہوں۔ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ شادیوں پر اسی قانون کی دفعات نافذ ہوں گی۔
عدالت نے خاتون کا یہ دعویٰ بھی مسترد کر دیا کہ انہیں مرحوم کی قانونی بیوہ تصور کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ شادی باطل قرار دی جا چکی ہے، اس لیے وہ مرحوم کی جائیداد یا وراثت سے متعلق مقدمے میں بیوہ کی حیثیت سے قانونی دعویٰ نہیں کر سکتیں۔
البتہ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت اس شادی سے پیدا ہونے والی بیٹی کو قانونی تحفظ حاصل رہے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ باطل شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے حقوق قانون کے تحت محفوظ ہیں اور وہ اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے مقدمے میں فریق رہ سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی سے متعلق قانونی اصولوں کی ایک اہم تشریح قرار دیا جا رہا ہے



