بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

وارانسی پلے اسکول واقعہ: پینٹ میں پیشاب کرنے پر 5 سالہ بچے کو مبینہ طور پر گرم چاقو سے داغ دیا، ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج

بچے کے والد کی شکایت پر ایف آئی آر درج، پولیس نے میڈیکل رپورٹ سمیت تمام شواہد کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دیں۔

وارانسی، 27 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں) اتر پردیش کے شہر وارانسی میں بچوں پر مبینہ تشدد کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک پلے اسکول کی ٹیچر پر پانچ سالہ طالب علم کے نجی اعضا کو گرم چاقو سے جلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعہ 24 جولائی کو لال پور-پانڈے پور پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع Serene Sony Play School میں پیش آیا، جس کے بعد بچے کے والد کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

شکایت کے مطابق، پانچ سالہ بچے نے کلاس کے دوران اپنی ٹیچر پریتی کشواہا سے واش روم جانے کی اجازت مانگی، لیکن مبینہ طور پر اجازت نہ ملنے کے باعث وہ اپنی پینٹ میں پیشاب کر بیٹھا۔ الزام ہے کہ اس پر ٹیچر شدید غصے میں آگئیں، بچے کو دوسرے کمرے میں لے گئیں، گیس پر چاقو گرم کیا اور اس کے نجی اعضا کو داغ دیا۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے کسی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

بچے کے گھر پہنچنے پر اس نے روتے ہوئے اپنے والدین کو پوری بات بتائی۔ والدین نے پہلے کلاس ٹیچر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ بعد ازاں جب انہوں نے اسکول کی پرنسپل ہیملتا سنگھ سے بات کی تو الزام ہے کہ انہیں مدد فراہم کرنے کے بجائے دھمکیاں دی گئیں۔ اگلے روز والد اسکول پہنچے لیکن ان کے مطابق پرنسپل اور اسکول انتظامیہ نے معاملے پر کوئی تعاون نہیں کیا، جس کے بعد انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔

سینئر پولیس افسر اتل سنگھ نے بتایا کہ بچے کے والد کی تحریری شکایت کی بنیاد پر ٹیچر اور متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی یو ضلع اسپتال کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں جلنے کے زخم کا واضح ذکر نہیں کیا گیا، جس کے باعث تفتیش تمام ممکنہ پہلوؤں سے جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

نوٹ: یہ تمام الزامات بچے کے والد کی شکایت پر مبنی ہیں۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور عدالت میں الزامات ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button