
ای 20 پٹرول پر عوامی غصہ، "E20 جنتا پارٹی” کی مہم تیز، نتن گڈکری کے استعفیٰ کا مطالبہ
"ای 20 پٹرول پر تنازع بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر نتن گڈکری کے استعفیٰ کا مطالبہ تیزی سے زور پکڑ رہا ہے۔"
نئی دہلی، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) بھارت میں ای 20 (E20) پٹرول کے استعمال پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر "E20 جنتا پارٹی” کے نام سے ایک مہم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس میں مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مہم کے نام سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس اکاؤنٹ کو پچاس ہزار سے زائد افراد فالو کر رہے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد دو لاکھ انتیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ شہری گاڑیاں خریدتے وقت بھاری جی ایس ٹی (GST) ادا کرتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسا ایندھن فراہم کیا جائے جو ان کی گاڑیوں کے انجن یا کارکردگی کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ ان کا الزام ہے کہ E20 ایندھن کو صارفین پر زبردستی نافذ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مرکزی وزیر نتن گڈکری پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ E20 پٹرول سے کسی ایک بھی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے تو وہ ثبوت پیش کرے۔ تاہم سوشل میڈیا پر بعض گاڑی مالکان نے ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ E20 استعمال کرنے کے بعد ان کی گاڑیوں کی مائلیج کم ہوئی اور کارکردگی متاثر ہوئی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
"E20 جنتا پارٹی” کے نام سے چلنے والی اس آن لائن مہم میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ای 20 پٹرول کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور نتن گڈکری اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ادھر سوشل میڈیا پر خاص طور پر نوجوان صارفین اس مہم کو وسیع پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں، جس سے یہ موضوع انٹرنیٹ پر تیزی سے زیرِ بحث آ گیا ہے۔



