سرورققومی خبریں

24 گھنٹوں میں داخلہ منسوخ، فیس واپس نہ کرنے پر GD Goenka اسکول کو ₹1.21 لاکھ ادا کرنے کا حکم

اسکول نے "نان ریفنڈیبل پالیسی" کا حوالہ دیا,کمیشن نے اسکول کا مؤقف مسترد کر دیا

گروگرام:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)گروگرام ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن نے GD Goenka Signature School کو "سروس میں سنگین کوتاہی” کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک خاتون کو ₹90 ہزار داخلہ و رجسٹریشن فیس واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے خاتون کو ₹20 ہزار بطور ہرجانہ اور ₹11 ہزار مقدمے کے اخراجات بھی ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

کمیشن کے صدر سنجیو جندل اور اراکین جیوتی سیواچ اور خوش وندر کور نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون نے اپنے دونوں بچوں کا داخلہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر منسوخ کر دیا تھا، جبکہ اس دوران اسکول کی جانب سے کوئی تعلیمی خدمت شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نہ تو بچوں کا انٹرویو لیا گیا تھا اور نہ ہی اسکول نے سابقہ اسکول کا لیونگ سرٹیفکیٹ، تاریخ پیدائش کا سرٹیفکیٹ یا دیگر ضروری دستاویزات طلب کی تھیں، جو داخلہ کے عمل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ داخلہ منسوخ کرنے اور رقم واپس لینے کی درخواست اگلے ہی دن، یعنی خدمات کے آغاز سے پہلے کر دی گئی تھی، اس لیے اسکول کی جانب سے رقم واپس نہ کرنا واضح طور پر سروس میں کمی (Deficiency in Service) ہے۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ گروگرام کے سیکٹر 92 سے سوہنا منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی تھیں، جہاں GD Goenka Signature School ان کے مجوزہ گھر کے قریب تھا۔

اسی وجہ سے انہوں نے اپنے دو بچوں کے داخلے کے لیے اسکول میں ہر بچے کے لیے ₹5 ہزار رجسٹریشن فیس اور ₹40 ہزار داخلہ فیس جمع کرائی، جس کی مجموعی رقم ₹90 ہزار بنتی ہے۔

تاہم، کووڈ-19 وبا کے دوران مالی مشکلات پیدا ہونے کے باعث ان کا سوہنا منتقل ہونے کا منصوبہ منسوخ ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے 30 جنوری 2021 کو، یعنی فیس جمع کرانے کے صرف ایک دن بعد، داخلہ منسوخ کرنے اور پوری رقم واپس کرنے کی درخواست دے دی۔

اسکول نے "نان ریفنڈیبل پالیسی” کا حوالہ دیا

اسکول نے کمیشن کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ داخلہ اور رجسٹریشن فیس اس کی پالیسی کے مطابق نان ریفنڈیبل (واپس نہ ہونے والی) تھی، اور شکایت کنندہ نے فیس جمع کراتے وقت ان شرائط کو قبول کیا تھا، اس لیے رقم واپس نہ کرنا قانونی طور پر درست تھا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ اسکول نے اپنی پالیسی میں داخلہ اور رجسٹریشن فیس کو ناقابلِ واپسی (نان ریفنڈیبل) قرار دیا تھا، لیکن چونکہ نہ تعلیمی سیشن کا آغاز ہوا تھا، نہ بچوں کا داخلہ کا عمل مکمل ہوا تھا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی تعلیمی خدمت فراہم کی گئی تھی، اس لیے صرف 24 گھنٹوں کے اندر داخلہ منسوخ کیے جانے کے باوجود فیس واپس نہ کرنا قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں اسکول کی جانب سے رقم اپنے پاس رکھنا سروس میں کوتاہی کے مترادف ہے۔

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے نے ابھی تک کوئی تعلیمی خدمت فراہم نہیں کی اور والدین بروقت داخلہ منسوخ کر دیں، تو صرف "نان ریفنڈیبل فیس” کی شرط کا سہارا لے کر رقم روکنا درست نہیں۔ ایسے معاملات میں صارفین کنزیومر کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button