
صرف ناجائز تعلقات کے شک پر طلاق نہیں دی جا سکتی، جھارکھنڈ ہائی کورٹ
صرف شک کی بنیاد پر کسی پر بدکاری کا الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا، طلاق کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔
رانچی، 28 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیز): جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ازدواجی مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف ناجائز تعلقات کے شک یا بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر شادی ختم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے شوہر کی جانب سے دائر طلاق کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین الزام کو ثابت کرنے کے لیے واضح، قابل اعتماد اور مضبوط شواہد پیش کرنا ضروری ہیں۔
جسٹس سجیت نارائن پرساد اور جسٹس پردیپ کمار سریواستو پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے اپنی بیوی پر ناجائز تعلقات کا الزام تو عائد کیا، لیکن عدالت کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے۔ عدالت کے مطابق صرف اندازوں، شکوک یا عمومی نوعیت کے بیانات کو قانونی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق دونوں کی شادی 3 جولائی 1987 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی۔ کئی برس بعد شوہر نے ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی اکثر جھگڑا کرتی تھی، ازدواجی تعلقات سے انکار کرتی تھی، بغیر اجازت گھر چھوڑ دیتی تھی اور ایک دوسرے شخص سے ناجائز تعلقات رکھتی تھی۔
دوسری جانب بیوی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے بعد اس سے اضافی جہیز کا مطالبہ کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کھانے پینے کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا اور بعد ازاں اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ خاتون نے شوہر اور اس کے اہل خانہ کے خلاف جہیز ہراسانی سے متعلق قانونی کارروائی بھی شروع کی تھی۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ مقدمے کے دوران پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات سے شوہر کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے، جبکہ بیوی کا مؤقف ریکارڈ پر موجود حقائق اور اس کی جانب سے کی گئی قانونی کارروائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شوہر کی جانب سے لگائے گئے الزامات انتقامی کارروائی کا تاثر دیتے ہیں، کیونکہ یہ دعوے اس وقت سامنے آئے جب بیوی نے اس کے خلاف شکایت درج کرائی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو بھی دہرایا کہ بدکاری جیسے الزام کو ثابت کرنے کے لیے صرف شبہ کافی نہیں ہوتا بلکہ ایسے حالات اور شواہد ہونا ضروری ہیں جو منطقی طور پر اسی نتیجے تک پہنچائیں۔ عدالت کے مطابق اس مقدمے میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، اس لیے فیملی کورٹ کی جانب سے طلاق کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ درست قرار دیا گیا اور شوہر کی اپیل بھی خارج کر دی گئی۔



