قومی خبریں

لوک سبھا سے اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل 2026 منظور، پیپر لیک پر 10 سال قید اور 10 کروڑ روپے جرمانہ

دو روزہ گرما گرم بحث کے بعد بل منظور، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید نوک جھونک

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لوک سبھا نے دو روز تک جاری رہنے والی طویل، گرما گرم اور ہنگامہ خیز بحث کے بعد پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) ترمیمی بل 2026 صوتی ووٹنگ سے منظور کر لیا۔ اس ترمیمی قانون کا مقصد ملک میں بار بار سامنے آنے والے پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں اور منظم نقل مافیا کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون سے سرکاری امتحانات میں شفافیت، احتساب اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ ترمیم پبلک ایگزامینیشنز (Prevention of Unfair Means) ایکٹ 2024 میں کی گئی ہے، جس کے تحت سزا اور جرمانے کی دفعات کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ نئے قانون کے مطابق امتحانی سوالیہ پرچہ لیک کرنے، منظم دھوکہ دہی اور امتحانی نظام میں مداخلت کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ اور غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی جائیداد ضبط کیے جانے کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ایسے مقدمات کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کرنے کے لیے بھی خصوصی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔

بل کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی جب حالیہ دنوں میں امتحانی نظام کے خلاف ملک گیر احتجاج نے سیاسی ماحول کو بھی گرم رکھا۔ 20 جولائی کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے "سنسد چلو” مظاہرے میں سینکڑوں طلبہ نے نیٹ (NEET) پیپر لیک سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا اور اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں 25 جولائی کو دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بل پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے کہا کہ ملک کی نوجوان نسل نے اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے جس انداز میں آواز بلند کی، اس کا احترام ہر سیاسی جماعت کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر ہونے والا طلبہ کا احتجاج نفرت یا تشدد نہیں بلکہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی امیدوں کا اظہار تھا، جس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیے۔

تاہم بحث اس وقت شدید تلخی اختیار کر گئی جب راہول گاندھی نے آر ایس ایس پر تعلیمی نظام کو متاثر کرنے کا الزام لگایا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت پولیس کارروائی اور پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق الزامات عائد کیے۔ بی جے پی ارکان نے ان بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہول گاندھی کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزامات کے ثبوت ایوان میں پیش کریں یا پھر معافی مانگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر شواہد کے اس نوعیت کے سنگین الزامات پارلیمانی روایت کے خلاف ہیں۔

بعد ازاں بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے عملہ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی راہول گاندھی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتظامی نظام کی بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی احتجاج کے دوران کارروائی کا حکم کوئی وزیر نہیں دیتا بلکہ اس کا اختیار مجسٹریٹ، ضلع مجسٹریٹ (DM) یا سب ڈویژنل مجسٹریٹ (SDM) کے پاس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا تھا اور امت شاہ کے بیرون ملک ہونے سے متعلق دعویٰ بھی حقائق کے منافی ہے۔

جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے بل کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف ماہرین، اداروں اور متعلقہ فریقوں کی تجاویز کو شامل کیا ہے تاکہ قانون مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 کے قانون میں سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے جرمانہ تھا، جسے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور اعلیٰ انتظامیہ کے لیے بھی سزا کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ اب ان کے لیے پانچ سے دس سال قید کے ساتھ پانچ کروڑ روپے تک جرمانے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ پہلے زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک کروڑ روپے تھا۔ اس کے علاوہ پہلے جہاں بعض جرائم پر تین سے پانچ سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا، اب اسے بڑھا کر پانچ سے دس سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ کر دیا گیا ہے۔

ترمیمی قانون کے تحت امتحانی مراکز کے انچارج یا ذمہ دار افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا سکے گی۔ اگر ان کی غفلت یا ملی بھگت ثابت ہوتی ہے تو انہیں پانچ سے دس سال قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت نے منظم پیپر لیک گینگ اور امتحانی مافیا کے خلاف بھی سخت ترین دفعات شامل کی ہیں۔ ایسے منظم جرائم میں ملوث افراد کے لیے کم از کم سزا سات سال قید مقرر کی گئی ہے، جو پہلے پانچ سال تھی، جبکہ جرمانے کی حد ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں سرکاری امتحانات کے نظام کو محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد بنانا ہے۔

بحث میں پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو، انوراگ ٹھاکر، تیجسوی سوریا اور سپریا سولے سمیت مختلف جماعتوں کے متعدد ارکان نے بھی حصہ لیا اور امتحانی اصلاحات پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حکومت کو امید ہے کہ نئے قانون کے نفاذ سے مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button