
19 سال بعد متنازعہ بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی کولکاتا واپسی، کہا: ’’یہی میرا گھر ہے‘‘
2007 کے تنازع کے بعد پہلی بار کولکاتا پہنچنے والی متنازعہ بنگلہ دیشی مصنفہ نے شہر کو اپنا گھر قرار دیا
کولکاتا، 31 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)متنازعہ جلا وطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین تقریباً 19 سال بعد جمعہ کو کولکاتا پہنچ گئی۔ اپنی واپسی کو ایک جذباتی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اپنے ہی گھر لوٹتا ہوا محسوس کر رہی ہے۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں آزادیٔ اظہار، سیکولرازم اور مذہبی انتہا پسندی سے متعلق بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔
تسلیمہ نسرین دوپہر 12:50 بجے نیتاجی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں، جہاں سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے ارکان نے شنکھ بجا کر اور ہاتھ جوڑ کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مجھے کولکاتا واپس آ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔”
کولکاتا روانگی سے قبل انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، "مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں اپنے ہی ملک واپس جا رہی ہوں۔ میرے دل میں بنگال کبھی سرحد یا خار دار تاروں سے تقسیم نہیں ہوا۔ مشرقی بنگال کے دروازے اگرچہ میرے لیے بند ہیں، اس لیے اس وقت مغربی بنگال ہی میرا گھر ہے۔”
نسرین نے مزید کہا کہ اس شہر سے ان کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں، کیونکہ کولکاتا نے انہیں رہائش، قارئین، دوست اور اپنائیت کا احساس دیا، تاہم 2007 میں حالات نے انہیں یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان کے بقول اس واپسی میں خوشی بھی شامل ہے اور ماضی کی تلخ یادوں کا درد بھی۔
تسلیمہ نسرین ہفتہ کو وسطی کولکاتا کے رابندر سدن میں مختلف ثقافتی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک ادبی پروگرام میں شرکت کریگی، جہاں وہ شاعری بھی پیش کریں گی۔ یہ تقریب مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ادبی آواز بلند کرنے کے مقصد سے منعقد کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری اور معروف ادیب شیرشیندو مکھوپادھیائے بھی اس پروگرام میں شریک ہو سکتے ہیں۔
ریاستی حکومت نے اس کی آمد کے پیش نظر سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ قیام کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ تسلیمہ نسرین نے اپنے دورے کے منتظمین اور مغربی بنگال حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
تسلیمہ نسرین 1994 میں اپنے ناول "لجا” کی اشاعت کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث بنگلہ دیش چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں 2004 میں وہ کولکاتا منتقل ہوئیں، لیکن 2007 میں ان کی خودنوشت "دوکھنڈیتو” پر ہونے والے شدید احتجاج کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔ حالات اس قدر خراب ہوئے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج طلب کرنا پڑی۔
اس وقت مغربی بنگال کی بائیں بازو کی حکومت نے نہ صرف "دوکھنڈیتو” کی اشاعت اور گردش پر پابندی عائد کی بلکہ تسلیمہ نسرین کو کولکاتا چھوڑنے پر بھی مجبور کیا۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی واپسی ممکن نہ ہو سکی اور ادبی حلقوں نے اس فیصلے کو اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔



