سرورققومی خبریں

پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول شامل ہونے سے صارفین کو 30 روپے فی لیٹر تک فائدہ، حکومت کا دعویٰ

اگر ایتھنول نہ ہوتا تو پٹرول 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتا، حکومت

نئی دہلی، 31 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): مرکزی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پٹرول میں ایتھنول شامل کرنے کی پالیسی نے حالیہ مغربی ایشیا بحران کے دوران صارفین کو بڑی مالی راحت فراہم کی۔ حکومت کے مطابق اگر پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول شامل نہ کیا جاتا تو دہلی میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت تقریباً 125 روپے تک پہنچ سکتی تھی، جبکہ صارفین نے 94.77 روپے فی لیٹر کے حساب سے پٹرول خریدا۔

وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث ہندوستانی خام تیل (انڈین کروڈ باسکٹ) کی قیمت تقریباً 135 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ اس صورتحال میں ایتھنول بلینڈنگ پروگرام نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کافی حد تک کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور صارفین کو تقریباً 30 روپے فی لیٹر کی بچت ہوئی۔

وزارت کے مطابق اس وقت فروخت ہونے والے ہر لیٹر پٹرول میں تقریباً 20 فیصد گھریلو سطح پر تیار کیا گیا ایتھنول شامل تھا، جسے پہلے سے طے شدہ قیمتوں پر خریدا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کے باوجود مقامی سطح پر پٹرول کی قیمت نسبتاً قابو میں رہی۔

حکومت نے کہا کہ ایتھنول بلینڈڈ پٹرول (EBP) پروگرام صرف ایندھن کی قیمتوں کو متوازن رکھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے توانائی تحفظ کو مضبوط بنانے، درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنے اور ملکی معیشت کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ ایتھنول کی تیاری کے لیے صرف وہی اضافی اناج استعمال کیا جاتا ہے جسے محکمہ خوراک و عوامی تقسیم غذائی تحفظ کی تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد منظور کرتا ہے۔ عوامی تقسیم کے نظام (PDS)، نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ، مختلف فلاحی اسکیموں اور لازمی بفر اسٹاک کے لیے مختص اناج کو ایتھنول بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ خراب، ٹوٹے ہوئے یا انسانی استعمال کے قابل نہ رہنے والے اناج کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کے ذریعے اب تک 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے کیونکہ خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی آئی۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام سے 950 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی، جبکہ کسانوں اور ڈسٹلریز کو 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی جا چکی ہے، جس سے زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ ملک اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے ایتھنول بلینڈنگ پروگرام عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ فراہم کرنے اور توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم بنانے میں ایک مؤثر قدم ثابت ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button