
طلباء کے احتجاج پر مودی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔ 36 دنوں سے جنتر منتر پر جاری احتجاج ختم ہوگیا۔ مودی حکومت نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیا، جسے صدر جمہوریہ نے بھی منظور کر لیا۔ اپوزیشن نے اسے حکومت کی ہار اور طلباء و "انڈیا” اتحاد کی جیت قرار دیا۔ دوسری طرف وزیراعظم مودی نے پرہلاد جوشی کو ملک کا نیا وزیر تعلیم مقرر کردیا۔
نئے وزیر تعلیم کے طور پر عہدہ سنبھالنے کے بعد پرہلاد جوشی نے وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس کیا، جس کی تصاویر انسٹاگرام پر بھی جاری کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے نیا شعبہ ہے اور وہ خود کو اس سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ملک بھر میں ایک سوال گردش کرنے لگا کہ آخر پرہلاد جوشی کون ہیں؟ ان کی سیاسی شناخت، کارکردگی اور شخصیت کیا ہے؟ وہ کس ریاست اور کس پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں؟
راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے جس نے عصمت دری کے مقدمے میں سزا یافتہ افراد کی رہائی کی حمایت کی تھی۔ جب پرینکا گاندھی نے پارلیمنٹ میں یہی بات دہرائی تو اسے کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کردیا گیا۔ خود پرہلاد جوشی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف غلط بیانی کی گئی ہے اور پرینکا گاندھی سے معذرت کا مطالبہ کیا۔
اگرچہ پارلیمنٹ کی کارروائی سے یہ ریمارکس حذف کردیئے گئے، لیکن سوشل میڈیا پر اب بھی وہ تمام ویڈیوز موجود ہیں جن میں پرہلاد جوشی بلقیس بانو کیس کے 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کو قانونی قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ راہول گاندھی کا بیان بھی پارلیمنٹ سے باہر کا ہے، اس لیے وہ حذف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی دوران لوگوں نے 2022 کا این ڈی ٹی وی کا ایک پرانا انٹرویو بھی دوبارہ سامنے لایا، جس میں صحافی سرینواس جین کے سوال پر پرہلاد جوشی کہتے ہیں کہ بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی قانون کے مطابق ہوئی، اس لیے انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
پرہلاد جوشی نے اس وقت انڈین ایکسپریس سے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ تمام کارروائی قانونی دائرے میں ہوئی اور جیل میں مجرموں کا رویہ بھی اچھا پایا گیا تھا۔ اس وقت وہ مودی حکومت میں مرکزی وزیر تھے۔ 15 اگست 2022 کو بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے 14 افراد کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ 11 مجرموں کو 14 سال قید مکمل کرنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
بلقیس بانو نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد عدالتِ عظمیٰ نے اس رہائی کو منسوخ کرتے ہوئے تمام 11 مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا اور جسٹس اجل بھویان کی بنچ نے واضح کیا کہ گجرات حکومت کو اس معاملے میں رہائی کا فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار ہی حاصل نہیں تھا، کیونکہ مقدمے کی سماعت اور سزا مہاراشٹر میں ہوئی تھی۔
ان مجرموں کی رہائی وزارتِ داخلہ کے اس پینل کی سفارش پر ہوئی تھی جو امیت شاہ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ پینل نے جیل میں اچھے برتاؤ کی بنیاد پر سزا مکمل ہونے سے پہلے رہائی کی سفارش کی تھی۔ رہائی کے بعد وی ایچ پی کے کارکن پھول مالائیں لے کر استقبال کے لیے پہنچے، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور بعد میں بی جے پی کے بعض رہنما بھی ان میں سے ایک مجرم کے ساتھ اسٹیج پر نظر آئے۔ یہ تمام تفصیلات اس وقت میڈیا میں شائع ہوچکی ہیں۔
آج کی Gen-Z نسل کو چاہیے کہ وہ ان خبروں کو دوبارہ دیکھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ جب وہ بڑی ہورہی تھی، اس وقت صحافیوں اور عمر خالد جیسے طلباء کو جیل بھیجا جارہا تھا، جبکہ قتل اور عصمت دری جیسے سنگین مقدمات میں سزا یافتہ افراد کو قبل از وقت رہا کیا جارہا تھا۔ شاید نئی نسل کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ عصمت دری کے مقدمے میں سزا یافتہ رام رحیم کو بھی اب تک 400 دن سے زیادہ پیرول مل چکا ہے۔
اگست 2022 میں جب ملک بھر میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ بلقیس بانو کیس کے مجرموں کو کیوں رہا کیا گیا، تب پرہلاد جوشی مسلسل یہی کہہ رہے تھے کہ رہائی قانونی ہے، جبکہ بعد میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ گجرات حکومت کے پاس ایسا فیصلہ لینے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
پرہلاد جوشی کو کئی وزارتوں کا تجربہ حاصل ہے اور اب انہیں وزارتِ تعلیم بھی سونپی گئی ہے۔ دوسری طرف دنیا کے کئی ممالک، مثلاً نیدرلینڈ، اپنے امتحانی نظام پر فخر کرتے ہیں، جہاں طلباء کامیابی کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے طلباء بھی اپنے امتحانی نظام پر اسی اعتماد کا اظہار کرسکتے ہیں؟
گزشتہ دس برسوں میں ملک بھر میں 93 ہزار سے زیادہ اسکول بند ہوگئے۔ 2013-14 میں تعلیم کا بجٹ مجموعی بجٹ کا 4.6 فیصد تھا، جو 2025-26 میں کم ہوکر صرف 2.6 فیصد رہ گیا، حالانکہ مجموعی قومی بجٹ مسلسل بڑھتا رہا۔ مودی حکومت میں پرہلاد جوشی پانچویں وزیر تعلیم ہیں۔ ان سے پہلے سمرتی ایرانی، پرکاش جاوڈیکر، رمیش پوکھریال اور دھرمیندر پردھان اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
پرہلاد جوشی کرناٹک کے دھارواڑ سے مسلسل پانچ مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں اور 2004 سے اس حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ دھارواڑ اپنی مشہور پیڑا مٹھائی کے لیے جانا جاتا ہے، جسے 2008 میں جی آئی ٹیگ بھی ملا تھا۔
ان تمام وزرائے تعلیم میں مجھے سب سے زیادہ رمیش پوکھریال متاثر کرتے تھے۔ ان کی تقاریر میں ایک عزم محسوس ہوتا تھا اور میں ان کی باتوں پر ویڈیوز بھی بنایا کرتا تھا۔ وہ تقریباً دو برس وزیر تعلیم رہے۔ 2020 میں قیادت کے موضوع پر انہوں نے کہا تھا کہ لیڈرشپ صرف ڈنڈا لے کر نہیں کی جاسکتی، بلکہ دنیا کے اچھے اور برے تمام رہنماؤں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ شاید Gen-Z نے بھی ان کی یہ بات سنجیدگی سے لی اور اسی شعور کے ساتھ جنتر منتر پہنچ گئی۔
اب بات راہول گاندھی اور امیت شاہ کی۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ دہلی میں 20 جولائی کو ہونے والے پرتشدد واقعات کی ذمہ داری وزیر داخلہ امیت شاہ پر عائد ہوتی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق جب گولی چلانے، پیلٹ گن استعمال کرنے یا لاٹھی چارج کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس کی آخری ذمہ داری وزیر داخلہ اور وزیراعظم پر ہوتی ہے۔
راہول گاندھی کا سوال ہے کہ اگر یہ سب امیت شاہ کے حکم سے ہوا تو وہ جوابدہ ہیں، اور اگر ان کے علم کے بغیر ہوا تو پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے مطابق تیسرا کوئی امکان موجود نہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں امیت شاہ کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ امیت شاہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اگر وہ بے قصور ہوتے تو چند منٹ کے لیے ایوان میں آکر اپنا مؤقف پیش کردیتے۔ دہلی پولیس وزارتِ داخلہ کو رپورٹ کرتی ہے، جبکہ RAF اور سی آر پی ایف بھی وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہیں۔ لہٰذا دہلی میں پیش آنے والے تشدد کی ذمہ داری کسی تیسری قوت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
راہول گاندھی کے مطابق وزیر داخلہ کی خاموشی خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم مودی نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انسٹاگرام پر ایک ریل جاری کی، لیکن امیت شاہ کی جانب سے اب تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔



