سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

راہول گاندھی اور پرینکا سے مودی حکومت کا ڈر-✍️محمد ریاض احمد

طلبہ احتجاج، نیٹ پیپر لیک اور اپوزیشن کی جارحانہ حکمت عملی نے مرکزی حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا،

ہمارے وطنِ عزیز ہندوستان میں موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کی دوسری تنظیمیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ تمام وزرائے اعظم میں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت انہیں ہی حاصل ہوئی۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی قائدین کا یہ دعویٰ کتنا درست ہے، اس کا اندازہ حال ہی میں جنتر منتر پر اختتام پذیر ہونے والے طلبہ احتجاج سے لگایا جا سکتا ہے۔ صرف دہلی کے جنتر منتر پر ہی نہیں بلکہ مہاراشٹرا، تلنگانہ، کرناٹک، کیرالا اور خود بی جے پی کی زیرِ اقتدار ریاستوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران طلبہ و طالبات نے جس طرح کے نعرے لگائے، پلے کارڈز اٹھائے اور سوشل میڈیا پر ریلز بنائیں، ان سے بہت کچھ واضح ہو گیا۔ اس احتجاج نے، مصنف کے مطابق، مودی حکومت اور بی جے پی کی اپنی مقبولیت سے متعلق خوش فہمی کو بھی چیلنج کیا۔

مودی اور امیت شاہ کی جوڑی کے ساتھ حکمراں جماعت کے دیگر قائدین بھی اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ ہمیشہ اقتدار میں رہیں گے اور انہیں اقتدار سے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ اپوزیشن قائدین کا الزام ہے کہ مودی۔شاہ قیادت نے مرکزی ایجنسیوں کی آزادی اور شفافیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ملک کے سینئر سیاست دان شرد پوار نے متعدد مواقع پر دعویٰ کیا کہ مرکزی ایجنسیاں مودی حکومت کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔ شرد پوار، جو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ اور راجیہ سبھا کے رکن ہیں، اپنے طویل سیاسی کیریئر میں کئی بار لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن رہنے کے ساتھ مرکزی کابینہ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔

جہاں تک طلبہ کے احتجاج کا تعلق ہے، مصنف کے مطابق شاید مودی نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ ایک دن طلبہ اس انداز میں ان کے خلاف احتجاج کریں گے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں جتنے بھی وزرائے اعظم گزرے، ان میں نریندر مودی کو طلبہ کی جانب سے سب سے زیادہ سخت عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

1947ء کے بعد ہندوستان میں 14 مستقل اور دو کارگزار وزرائے اعظم رہے، جن میں پنڈت جواہر لال نہرو، گلزاری لال نندا، لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، مرارجی دیسائی، چرن سنگھ، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، چندر شیکھر، پی وی نرسمہا راؤ، اٹل بہاری واجپائی، ایچ ڈی دیوے گوڑا، آئی کے گجرال، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور 2014ء سے نریندر مودی شامل ہیں۔ مصنف کے مطابق موجودہ دور میں نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زیڈ، نے مودی حکومت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

مصنف کے مطابق طلبہ کے نعروں اور احتجاج سے یہ تاثر ملا کہ اب عوام انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ راہول گاندھی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی اپوزیشن قائدین مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مبینہ سازباز کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، اگرچہ الیکشن کمیشن ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ احتجاج کے دوران وزیراعظم کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی، تاہم وہ ان نعروں اور الفاظ کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے۔

مصنف کے مطابق ایک طرف طلبہ نے حکومت کو دباؤ میں ڈالا، تو دوسری جانب قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی مودی حکومت اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر مسلسل سیاسی دباؤ برقرار رکھا۔ مصنف کے خیال میں دونوں بہن بھائی مودی کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنتے جا رہے ہیں اور انہوں نے حکومت کی مختلف شعبوں میں ناکامیوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے پر ہونے والے طلبہ احتجاج کو کامیاب بنانے میں بھی، مصنف کے مطابق، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے اہم کردار ادا کیا۔ دونوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا دے کر حکومت پر دباؤ بڑھایا۔ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی میں راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا، تاہم مصنف کے مطابق حکومت انہیں احتجاج سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

مصنف نے سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال کا بھی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے مرکزی حکومت کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ طلبہ کے ساتھ سخت رویہ اور احتجاج کو دبانے کی پالیسی مستقبل میں حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک متنازع تبصرے کے بعد شروع ہونے والے طلبہ احتجاج کے باوجود مرکزی حکومت نے فوری ردعمل نہیں دیا، لیکن جب راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے اس تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا تو، مصنف کے مطابق، حکومت دباؤ میں آگئی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو قبول کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا دیا، ورنہ حکومت کی انا، ضد اور ہٹ دھرمی اسے مزید سیاسی نقصان پہنچا سکتی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button