
لوک سبھا میں ہنگامے کے دوران پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل منظور، اپوزیشن کے شور شرابے پر کارروائی پیر تک ملتوی
تاخیر سے پیدائش اور اموات کے اندراج کے قوانین مزید سخت
نئی دہلی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دسویں دن لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور مسلسل نعرے بازی کے درمیان پیدائش و اموات رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026 منظور کر لیا گیا۔ ایوان میں ہنگامہ اس قدر بڑھ گیا کہ کارروائی پہلے مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، تاہم بل کی منظوری کے فوراً بعد پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اب لوک سبھا کی آئندہ کارروائی پیر کو ہوگی۔
اپوزیشن جماعتوں نے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں آکر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے اراکین ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت کے خلاف مسلسل نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث ایوان کا ماحول انتہائی کشیدہ رہا۔
دوپہر 12 بجے جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دلیپ سیکیا کی صدارت میں وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پیدائش و اموات رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026 پیش کیا۔ اپوزیشن کے شور و غل کے دوران بل پر کوئی بحث نہیں ہو سکی اور اسے صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔
بل میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟
ترمیمی قانون کا مقصد پیدائش اور اموات کے اندراج کے نظام کو مزید مؤثر بنانا اور تاخیر سے رجسٹریشن کے عمل کو سخت بنانا ہے تاکہ شہری بروقت اندراج کرانے کے پابند ہوں۔
نئے قانون کے مطابق اگر کسی پیدائش یا موت کا اندراج ایک سال سے زیادہ لیکن دو سال کے اندر کرایا جاتا ہے تو اس کے لیے ضلع مجسٹریٹ (DM)، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (SDM) یا ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے مجاز ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی منظوری لازمی ہوگی۔
اس کے برعکس اگر اندراج میں دو سال سے زیادہ تاخیر ہو جائے تو صرف فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کے بعد ہی رجسٹریشن ممکن ہوگی۔ اس سے پہلے نافذ قانون میں ایک سال سے زیادہ تاخیر کے تمام معاملات میں ضلع مجسٹریٹ یا مجاز افسر کی اجازت کافی سمجھی جاتی تھی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد پیدائش اور اموات کے ریکارڈ کو زیادہ شفاف، بروقت اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
اپوزیشن نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کے معاملے کو بنیاد بنا کر ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین مسلسل مطالبہ کرتے رہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آکر اس معاملے پر جواب دیں اور اس پر باقاعدہ بحث کرائی جائے، تاہم حکومت کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی گئی۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بل پر بحث نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ اس اہم قانون پر تفصیلی گفتگو ہو، لیکن اپوزیشن نے شور شرابہ کر کے موقع ضائع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ عوامی نمائندوں کے لیے قانون سازی اور سنجیدہ مباحث کا فورم ہے، اس لیے بلوں پر بحث سے گریز کرنا مناسب رویہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام بھی اپنے منتخب نمائندوں سے اس طرزِ عمل پر سوال کریں گے۔
ایوان کی صدارت کرنے والے دلیپ سیکیا نے بھی اپوزیشن سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اہم قانون کا بحث کے بغیر منظور ہونا پارلیمانی روایت کے لیے خوش آئند نہیں۔ تاہم اپوزیشن کے احتجاج کے باعث کارروائی معمول پر نہ آ سکی اور بل کی منظوری کے فوراً بعد لوک سبھا کو پورے دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
مرکزی کابینہ نے 20 جولائی کو اس ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ قانون پیدائش و اموات رجسٹریشن ایکٹ، 1969 میں مزید ترامیم لاتا ہے اور 2023 میں کی گئی اصلاحات کے بعد تاخیر سے رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید واضح اور سخت بناتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قانونی دفعات سے شہریوں کو بروقت رجسٹریشن کی ترغیب ملے گی اور سرکاری ریکارڈ مزید درست اور منظم ہوگا۔



