قومی خبریں

سپریم کورٹ سے نارائن سائی کو فوری ریلیف نہیں، ضمانت کا معاملہ تین ماہ میں ہائی کورٹ نمٹائے گی

سپریم کورٹ میں نارائن سائی کی ضمانت کیس کی سماعت

نئی دہلی، 7 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): 2013 کے عصمت دری کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کے بیٹے نارائن سائی کو سپریم کورٹ سے فوری ریلیف حاصل نہیں ہو سکا۔ عدالت عظمیٰ نے ان کی ضمانت اور سزا پر روک لگانے کی درخواست پر اس مرحلے میں غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ گجرات ہائی کورٹ کے سپرد کر دیا اور ہدایت دی کہ زیر التوا اپیل کی سماعت مکمل کرکے تین ماہ کے اندر فیصلہ سنایا جائے۔

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورلے پر مشتمل بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار اور ریاستی حکومت دونوں عدالتی کارروائی میں مکمل تعاون کریں تاکہ مقدمے کا فیصلہ مقررہ مدت میں ہو سکے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ معاملہ دوبارہ اس کے سامنے آسکتا ہے، اس لیے وہ فی الحال کیس کے حقائق یا شواہد پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔

سماعت کے دوران نارائن سائی کے وکیل این ہری ہرن نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا سنائے جانے کے تقریباً بارہ برس گزر چکے ہیں، لیکن گجرات ہائی کورٹ میں اپیل پر ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ ابتدائی طور پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا اور سابقہ ہدایات کے باوجود ان کے دلائل کو مکمل طور پر نہیں سنا گیا۔ وکیل نے ہائی کورٹ کے سابقہ حکم میں درج بعض مشاہدات پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موکل اپنی اپیل پر تفصیلی سماعت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

نارائن سائی نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی اور سزا پر عبوری روک لگانے سے بھی انکار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد اب اس مقدمے کا اگلا اہم مرحلہ گجرات ہائی کورٹ میں ہوگا، جہاں عدالت کو تین ماہ کے اندر اپیل پر فیصلہ سنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button