قومی خبریں

نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کیس: سی بی آئی کی چارج شیٹ میں این ٹی اے سے وابستہ ماہرین پر سنگین الزامات

نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک کیس سے متعلق سی بی آئی کی چارج شیٹ

نئی دہلی، 7 اگست (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں): ملک کے معروف طبی داخلہ امتحان نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے میں مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) نے اپنی چارج شیٹ میں ایسے دعوے کیے ہیں جنہوں نے امتحانی نظام کی ساکھ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سوالیہ پرچہ کسی پرنٹنگ پریس سے باہر نہیں آیا بلکہ این ٹی اے کے لیے مختلف مراحل میں خدمات انجام دینے والے بعض مضمون کے ماہرین نے اپنی مجاز رسائی کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے امتحانی سوالات مخصوص افراد تک پہنچائے۔

سی بی آئی کے مطابق سوال نامے کے خفیہ ترجمہ، بیک ٹرانسلیشن اور پروف ریڈنگ کے دوران چند ماہرین کو سوالات تک رسائی حاصل تھی۔ چارج شیٹ میں بوٹنی و زولوجی کی ماہر منیشا گروناتھ مندھارے، کیمسٹری کے ماہر پرہلاد وٹھل راؤ کلکرنی اور فزکس کی ماہر منیشا سنجے کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے امتحان سے قبل سوالات کی معلومات مختلف ذرائع سے امیدواروں تک پہنچائیں۔

تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اپریل 2026 میں پونے میں بعض خفیہ ریویژن سیشن منعقد کیے گئے جہاں امیدواروں کو سوالات، ان کے اختیارات اور درست جوابات زبانی طور پر یاد کرائے گئے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ تمام معلومات صرف ہاتھ سے نوٹ کریں تاکہ کوئی ڈیجیٹل ثبوت موجود نہ رہے۔

سی بی آئی کے مطابق فزکس کے سوالات ایک لیکچرر کے ذریعے آگے منتقل کیے گئے، جن کی تصاویر بنا کر دوسرے افراد تک پہنچائی گئیں۔ بعد ازاں یہی مواد ٹیلیگرام کے ذریعے پی ڈی ایف کی شکل میں مختلف ریاستوں میں موجود رابطہ کاروں تک پہنچا اور مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے عوض فروخت کیا گیا۔ چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بعد سوالیہ پرچے کی پرنٹ کاپیاں کوچنگ سینٹروں، نجی ٹیوٹرز اور بعض امیدواروں میں تقسیم کی گئیں۔

تفتیشی ایجنسی کا کہنا ہے کہ فورنسک جانچ کے دوران ضبط شدہ نوٹ بکس اور اصل امتحانی سوالیہ پرچے کا تقابلی جائزہ لیا گیا، جس میں سوالات اور جوابات میں نمایاں مماثلت سامنے آئی۔ اس کے علاوہ آن لائن مالی لین دین کے ریکارڈ، بینک کھاتوں کی تفصیلات اور پانچ لاکھ روپے نقد کی برآمدگی کو بھی تفتیش کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔

سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر دہلی کی راؤز ایونیو عدالت 10 اگست کو غور کرے گی۔ تاہم یہ واضح رہے کہ چارج شیٹ میں درج تمام الزامات تفتیشی ایجنسی کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button