
کیرالہ وقف بورڈ کی 3 خالی نشستیں 6 ہفتے میں پُر کرے حکومت، ہائی کورٹ
وقف بورڈ کی موجودہ تشکیل پر فیصلہ مؤخر
کوچی، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)کیرالہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کیرالہ اسٹیٹ وقف بورڈ میں موجود تین خالی نشستوں کو چھ ہفتوں کے اندر پُر کیا جائے۔ عدالت نے تاہم ترمیم شدہ وقف ایکٹ کے تحت موجودہ بورڈ کی تشکیل کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اس مرحلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
چیف جسٹس سومن سین اور جسٹس وی ایم شیام کمار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل کے جاجو بابو کے اس بیان کو ریکارڈ پر لیا کہ ریاستی حکومت نے ترمیم شدہ قانون کے مطابق خالی نشستوں کو پُر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کی توجہ وقف بورڈ کے مؤثر اور ہموار کام کاج پر ہے، کیونکہ بورڈ میں تین عہدے خالی ہیں۔ بنچ نے حکومت کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کے لیے چھ ہفتے کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر وہ اس سوال کا فیصلہ نہیں کر رہی کہ ترمیم شدہ وقف ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنیاد پر بورڈ کی تشکیل نو ضروری ہے یا نہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا عبوری حکم موجودہ وقف بورڈ کے کام کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔
یہ معاملہ کیرالہ وقف بورڈ کی موجودہ تشکیل کو چیلنج کرنے والی متعدد مفاد عامہ کی درخواستوں سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ ترمیم شدہ قانون میں مختلف برادریوں، خصوصاً غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عیسائی تنظیم اسمبلی آف کرسچن ٹرسٹ سروسز (ACTS) نے بھی بورڈ کی تشکیل کے ساتھ منمبم اراضی کی تفصیلات مرکز کے امید پورٹل پر اپ لوڈ کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے علاقے میں رہنے والے ہندو اور عیسائی خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
ACTS نے زمین کی تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے وقف بورڈ کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ تنظیم کے مطابق وقف ایکٹ کے تحت یہ کارروائی متولی کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ درخواست میں شیعہ، بوہرہ اور آغا خانی برادریوں کی نمائندگی نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے اور حکومت سے قانون کے مطابق نئے سرے سے اراکین کی نامزدگی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایک الگ مفاد عامہ کی درخواست میں بی جے پی لیڈر شون جارج نے دو غیر مسلم اراکین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے یہ اعلان کرنے کی بھی درخواست کی ہے کہ وقف بورڈ ترمیم شدہ وقف ایکٹ کی دفعہ 14(1) کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
درخواستوں میں سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی کن محمد کٹی ماسٹر کی بورڈ میں شمولیت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
گزشتہ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے زبانی طور پر کہا تھا کہ ریاستی حکومت کو بورڈ کی تشکیل نو سے روکنے والا کوئی حکم موجود نہیں ہے اور قانون کے مطابق بورڈ کے ہموار کام کے لیے غیر مسلم اراکین کی تقرری کی جا سکتی ہے۔
تاہم، بدھ کی سماعت میں عدالت نے بورڈ کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کے بنیادی قانونی نکات پر فیصلہ نہیں کیا۔ بنچ نے کہا کہ اس مرحلے پر بورڈ کی تشکیل میں مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کی تفصیلی جانچ ضروری نہیں ہے۔
اب ریاستی حکومت کو چھ ہفتوں کے اندر خالی نشستیں پُر کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگلی سماعت کے دوران حکومت کو اس سلسلے میں کی گئی کارروائی سے عدالت کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اس لیے وقف بورڈ کی تشکیل کے خلاف زیر سماعت درخواستوں کے تناظر میں آئندہ سماعت اہم سمجھی جا رہی ہے۔



