قومی خبریں

وندے ماترم پر کانگریس کا دو بند کا مؤقف برقرار، گاندھی اور نیتا جی کا حوالہ

کانگریس نے 1937 کے فیصلے کا حوالہ دے کر مؤقف واضح کر دیا، پہلے دو بند ہی گائے جائیں گے

نئی دہلی، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):وندے ماترم کی ادائیگی کو لے کر جاری سیاسی بحث کے درمیان کانگریس نے واضح کیا ہے کہ اس کے پروگراموں میں قومی گیت کے پہلے دو بند گانے کی روایت برقرار رہے گی۔ پارٹی نے اپنے مؤقف کے لیے آزادی کی تحریک کے دور کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی نیا سیاسی موقف نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے چلی آ رہی تنظیمی روایت ہے۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ جیبی میتھر نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف 1937 میں کیے گئے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور رابندر ناتھ ٹیگور سمیت کئی اہم رہنماؤں کے درمیان وندے ماترم کی ادائیگی کے معاملے پر غور کیا گیا تھا، جس کے بعد پہلے دو بند گانے کی روایت اختیار کی گئی۔

جیبی میتھر نے کہا کہ کانگریس کا یہ فیصلہ آج بھی قائم ہے اور پارٹی مستقبل میں بھی اسی روایت پر عمل کرے گی۔ ان کے مطابق وندے ماترم کانگریس اور آزادی کی تحریک کی تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے، اس لیے موجودہ مؤقف کو کسی حالیہ سیاسی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

کانگریس ترجمان سریندر راجپوت نے بھی پارٹی کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کارکن آزادی کی تحریک کے زمانے سے وندے ماترم گاتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ برطانوی دور حکومت میں قومی گیت گانے والے آزادی کے کارکنوں کو کارروائی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے وندے ماترم گانا ترک نہیں کیا۔

راجپوت نے مہاتما گاندھی، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور رابندر ناتھ ٹیگور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس آج بھی اسی تاریخی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس اور جن سنگھ سے وابستہ افراد پر آزادی کی تحریک کے دوران برطانوی حکام کو اطلاعات دینے کا الزام بھی لگایا اور سوال کیا کہ ان تنظیموں سے وابستہ افراد نے اس دور میں وندے ماترم کے لیے کیا کردار ادا کیا۔

ادھر انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ این کے پریم چندرن نے کہا کہ وندے ماترم کے معاملے پر کانگریس اور انڈیا بلاک کا مؤقف واضح ہے۔ ان کے مطابق قومی گیت کو سیاسی اختلافات کا ذریعہ بنانے کے بجائے لوگوں کو متحد کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

وندے ماترم کو لے کر سیاسی تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے پہلے دو بند تک محدود رہنے والے مؤقف پر سوال اٹھایا۔ بی جے پی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ قومی گیت کی مکمل ادائیگی سے گریز کرکے کانگریس اس کی اہمیت کو کم کر رہی ہے، جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ 1937 میں طے کی گئی اپنی تاریخی روایت کے مطابق ہی پروگراموں میں وندے ماترم پیش کرتی ہے۔

اس معاملے نے ایک مرتبہ پھر وندے ماترم کی تاریخی روایت، اس کی ادائیگی اور سیاسی پروگراموں میں قومی گیت کے استعمال کو لے کر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی اختلاف کو نمایاں کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button