قومی خبریں

13 ہزار کروڑ کے منشیات کیس کا مطلوب ملزم وریندر سنگھ بیسویوا UAE سے بھارت لایا گیا

انٹرپول ریڈ نوٹس کے بعد UAE میں گرفتار بیسویوا کو این سی بی نے دہلی ایئرپورٹ پر حراست میں لیا،

نئی دہلی، 14 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) بھارت میں ہزاروں کروڑ روپے کے منشیات اسمگلنگ کیسز میں مطلوب ملزم وریندر سنگھ بیسویوا کو متحدہ عرب امارات (UAE) سے بھارت واپس لایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اسے جمعہ 14 اگست کو دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

وریندر سنگھ بیسویوا، جسے ’ویرو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، مبینہ طور پر بڑے منشیات نیٹ ورک سے وابستہ تھا۔ اس کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات میں جون 2026 میں اسے گرفتار کیا گیا۔

این سی بی کے مطابق بیسویوا کو آپریشن گلوبل ہنٹ (Operation GLOBAL-HUNT) کے تحت بھارت واپس لایا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد بیرون ملک سے منشیات کا کاروبار چلانے والے بڑے اسمگلروں اور مفرور ملزمان کا سراغ لگانا اور انہیں قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

بیسویوا پونے کے تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کے منشیات کیس میں بھی ملزم ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی جانب سے بین الاقوامی کوکین اسمگلنگ نیٹ ورک کی تحقیقات میں بھی اس کا نام سامنے آیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق دہلی سے متعلق وسیع تر کیس میں ضبط کی گئی منشیات کی مجموعی مالیت تقریباً 13 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔

پونے کا معاملہ فروری 2024 میں اس وقت سامنے آیا جب تقریباً 500 گرام میفیڈرون ضبط کیا گیا۔ بعد کی کارروائیوں میں پونے سے تقریباً 867 کلوگرام جبکہ دہلی سے 970 کلوگرام میفیڈرون برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔

این سی بی نے بیسویوا کو مبینہ طور پر بیرون ملک موجود نیٹ ورک کا اہم رکن اور سازش میں شریک شخص قرار دیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق وہ بیرون ملک سے منشیات کی اسمگلنگ کو مربوط کرتا اور بھارت سے دیگر ممالک تک میفیڈرون کی کھیپ پہنچانے میں سہولت فراہم کرتا تھا۔

بعد میں اس کیس کی تحقیقات این سی بی کے ممبئی زونل یونٹ کو منتقل کردی گئی تھیں۔ دہلی میں ٹرانزٹ ریمانڈ کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بیسویوا کو پونے کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے 21 اگست تک این سی بی کی تحویل میں دے دیا۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے پوچھ گچھ دیگر ملزمان کے کردار کا تعین کرنے اور ان افراد تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے جو اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

بیسویوا کا نام دہلی پولیس اسپیشل سیل کی بین الاقوامی کوکین اسمگلنگ نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں بھی سامنے آیا۔ یہ معاملہ اکتوبر 2024 میں دہلی، اترپردیش اور گجرات میں ہونے والی مختلف کارروائیوں کے بعد سامنے آیا تھا۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس نیٹ ورک پر جنوبی امریکہ سے کوکین دبئی منتقل کرنے اور پھر اسے بھارت پہنچانے کا الزام ہے۔ گجرات کے انکلیشور کو مبینہ طور پر نیٹ ورک کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جہاں فارماسیوٹیکل اور کیمیکل کاروبار کی آڑ میں منشیات کی پروسیسنگ کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق منشیات کی کھیپ کو طبی یا کیمیکل سامان ظاہر کرکے ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس نیٹ ورک کی مبینہ سپلائی دہلی-این سی آر کے علاوہ پنجاب، ممبئی، حیدرآباد اور گوا تک تھی۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق دہلی پولیس بیسویوا کو اس کیس کی تحقیقات میں ایک اہم کڑی سمجھتی تھی اور اس سے پوچھ گچھ کی کوشش کررہی تھی۔ اس کی بھارت واپسی کے وقت تک اس کیس میں 14 افراد کی گرفتاری کی اطلاع تھی۔

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کے مطابق دہلی پولیس اسپیشل سیل نے متعلقہ کارروائیوں کے دوران 1,289 کلوگرام کوکین برآمد کی تھی، جس کی مالیت تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے بتائی گئی۔

بیسویوا جنوبی دہلی کے سر وجینی نگر کے قریب پلنجی کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور اس کے تعمیرات و جائیداد سمیت مختلف کاروباری مفادات تھے۔

رپورٹس کے مطابق تحقیقات کے دوران اسے دبئی سے درآمد شدہ سگریٹ کی مبینہ اسمگلنگ سے بھی جوڑا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ فروری 2024 میں اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے گڑگاؤں آیا تھا، جس کے بعد دوبارہ ملک سے باہر چلا گیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی بیسویوا کی بھارت واپسی کا خیرمقدم کیا۔ 14 اگست کو ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے بیرون ملک چھپے منشیات اسمگلروں کا سراغ لگانے اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کررہے ہیں۔

امیت شاہ کے مطابق بھارتی ایجنسیوں نے ’ٹاپ ٹو باٹم‘ اور ’باٹم ٹو ٹاپ‘ طریقہ کار کے ذریعے بیسویوا تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد بھارتی قانون سے بچ نہیں سکتے-

متعلقہ خبریں

Back to top button