قومی خبریں

بھوج شالہ میں نماز کے انتظامات کے خلاف دھار ضلع بند، ہندو تنظیموں کا احتجاج

نماز کے مقام پر ہندو تنظیموں کا اعتراض

دھار، 25 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): مدھیہ پردیش کے دھار میں بھوج شالہ-کمال مولہ کمپلیکس کے قریب جمعہ کی نماز کے لیے کیے گئے انتظامات کے خلاف سکل ہندو سماج کی جانب سے منگل کو ضلع بند کی اپیل کا نمایاں اثر دیکھنے کو ملا۔ دھار شہر کے علاوہ سردار پور، کوکشی، بدنور، مناور اور پتھم پور میں بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔ ہندو تنظیموں نے انتظامیہ سے نماز کے لیے خسرہ نمبر 612 میں کیے گئے انتظامات ختم کرنے اور عدالت کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

بند کے دوران ہندو تنظیموں کے کارکنان صبح ہی سڑکوں پر نکل آئے اور دکانداروں سے اپنے کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی۔ بعض مقامات پر دکانیں بند کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم پولیس نے واضح کیا کہ بند رضاکارانہ ہونا چاہیے اور کسی دکاندار یا شہری کو زبردستی کاروبار بند کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

عوام کو ضروری خدمات کی دشواری سے بچانے کے لیے اسکول، کالج، پیٹرول پمپ، میڈیکل اسٹورز اور صحت و ہنگامی خدمات کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ بند کے دوران ہندو تنظیموں کی جانب سے موٹر سائیکل ریلی بھی نکالی گئی، جبکہ کارکنان نے دوپہر ایک بجے لال باغ کمپلیکس میں جمع ہوکر ضلع انتظامیہ کو اپنے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم دینے کا اعلان کیا تھا۔

سکل ہندو سماج کا کہنا ہے کہ بھوج شالہ کے قریب خسرہ نمبر 612 میں جمعہ کی نماز کے لیے انتظام کرنا قابل اعتراض ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ اس انتظام کو ختم کیا جائے اور عدالت کی ہدایات کے مطابق نماز کے لیے مناسب مقام مقرر کیا جائے۔ بھوج اتسو سمیتی کے صدر سریش جلودیا نے دعویٰ کیا کہ نماز کا مقام بھوج شالہ سے تقریباً 300 میٹر دور ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد مسلم برادری کے لیے بھوج شالہ کمپلیکس سے متصل علاقے میں نماز کا انتظام کیا ہے۔ سروے نمبر 612 میں گزشتہ چند ہفتوں سے جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی ہے۔ نماز کے مقام سے متعلق انتظامیہ اور ہندو تنظیموں کے مؤقف میں یہی بنیادی اختلاف بند کی وجہ بنا ہے۔

بند کے پیش نظر دھار میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سی ایس پی ششانک گرجر کی قیادت میں تقریباً 800 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں یا گمراہ کن اطلاعات پر یقین نہ کریں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی دکاندار کو زبردستی دکان بند کرانے یا شہریوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق شہر میں صورتحال پرامن اور قابو میں رہی۔

بھوج شالہ-کمال مولہ کمپلیکس کو لے کر ہندو اور مسلم فریقین کے درمیان طویل عرصے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ مسلم فریق اس تاریخی عمارت کو کمال مولہ مسجد قرار دیتا ہے، جبکہ ہندو فریق اسے پرمار خاندان کے راجا بھوج کی جانب سے تعمیر کردہ دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتا ہے۔

رواں سال مئی میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھوج شالہ-کمال مولہ کمپلیکس کو دیوی سرسوتی سے منسوب مندر قرار دیا تھا۔ معاملہ بعد میں سپریم کورٹ پہنچا، جس نے ریاستی حکومت کو مسلم برادری کے لیے جمعہ کے روز دوپہر ایک بجے سے 3 بجے کے درمیان متنازع کمپلیکس سے متصل درگاہ کے احاطے میں نماز کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔

عدالتی ہدایت کے بعد ضلعی انتظامیہ نے نماز کے لیے بھوج شالہ کے قریب سروے نمبر 612 میں انتظامات کیے۔ ہندو تنظیمیں اب اسی مقام پر نماز کے انتظامات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button