
مہاراشٹر میں مذہب کی تبدیلی کا نیا قانون 28 اگست سے نافذ، کیا بدلے گا؟
چرچوں میں فارم کیوں بھرے جا رہے ہیں؟دعائیہ اجتماعات پر تنازع کیوں بڑھا؟نئے قانون میں کیا جرم ہوگا؟
ممبئی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر میں مذہب کی تبدیلی سے متعلق نیا قانون 28 اگست 2026 سے نافذ ہونے جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بنیادی مقصد طاقت، جبر، دھوکہ دہی، جھوٹی معلومات، دھمکی، غیر مناسب اثر و رسوخ یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کے واقعات کو روکنا ہے۔ تاہم قانون کے نفاذ سے قبل ہی ممبئی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مذہبی اجتماعات کو لے کر احتیاطی اقدامات شروع ہو گئے ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وسائی، ویرار، میرا-بھائیندر، پالگھر اور تھانے کے بعض علاقوں میں عیسائی دعائیہ اجتماعات میں شرکت کرنے والے افراد سے ایک فارم پُر کرایا جا رہا ہے۔ اس میں عام طور پر یہ اعلان شامل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دعائیہ اجتماع میں شریک ہوئے ہیں اور ان پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ، دھمکی، لالچ یا غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا گیا۔
بعض مقامات پر فارم کے ساتھ پاسپورٹ سائز تصویر اور شناختی دستاویزات، مثلاً آدھار یا PAN کی تفصیلات بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم یہ فارم حکومت کی جانب سے لازمی قرار دیا گیا فارم نہیں ہے۔ چرچ اور دعائیہ اجتماعات کے منتظمین اسے موجودہ ماحول میں احتیاطی اقدام اور ممکنہ قانونی کارروائی کی صورت میں دفاعی ریکارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے بعض علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران دعائیہ اجتماعات میں مبینہ مداخلت اور احتجاج کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اپریل سے جولائی کے درمیان ایسے اجتماعات سے متعلق پانچ واقعات میں نو ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سات مقدمات اجتماع کے منتظمین یا شرکاء کے خلاف جبکہ دو مبینہ طور پر اجتماعات میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف درج کیے گئے۔
اسی پس منظر میں بعض چرچ انتظامیہ نے شرکاء سے رضاکارانہ شرکت کا تحریری اعلان لینا شروع کیا ہے۔
مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے تحت محض مذہب تبدیل کرنا جرم نہیں ہے۔ قانون کا ہدف ایسی تبدیلی ہے جو طاقت، جبر، دھوکہ دہی، جھوٹی معلومات، دھمکی، غیر مناسب اثر و رسوخ یا لالچ جیسے غیر قانونی طریقوں سے کرائی جائے۔
قانون میں شادی یا شادی کے وعدے کے ذریعے غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے معاملات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی آزاد مرضی سے مذہب اختیار کرنا یا تبدیل کرنا بذاتِ خود جرم نہیں ہوگا۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی قانون پر بحث کے دوران واضح کیا تھا کہ اس کا مقصد رضاکارانہ مذہبی تبدیلی یا مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی رضاکارانہ شادیوں کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔
مذہب تبدیل کرنے سے پہلے 60 دن کا نوٹس
نئے قانون کا ایک اہم پہلو مذہب تبدیل کرنے سے قبل پیشگی اطلاع کا طریقہ کار ہے۔ کسی شخص کو مذہب تبدیل کرنے سے پہلے مقررہ طریقے کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کم از کم 60 دن پہلے نوٹس دینا ہوگا۔
تبدیلی مذہب کے بعد بھی مقررہ اعلامیہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔
حکومت کے مطابق اس طریقہ کار سے انتظامیہ کو یہ جانچنے کا موقع ملے گا کہ تبدیلی مذہب رضاکارانہ ہے یا اس کے پیچھے دباؤ، دھوکہ دہی یا لالچ جیسے عوامل موجود ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہب اور عقیدے جیسے انتہائی نجی معاملے میں اتنے وسیع سرکاری طریقہ کار سے فرد کی رازداری اور ذاتی آزادی کے حوالے سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
نئے قانون میں غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے لیے سخت سزاؤں کا انتظام کیا گیا ہے۔ عام معاملات میں سزا سات سال تک قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے، جبکہ بار بار جرم کرنے کی صورت میں سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
اگر معاملے میں نابالغ، خاتون یا درج فہرست ذات (SC) یا درج فہرست قبائل (ST) سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہو تو قانون میں مزید سخت سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ایسے جرائم کو قابلِ ادراک اور ناقابلِ ضمانت رکھا گیا ہے، جبکہ مقدمات کی سماعت سیشن عدالت میں ہونے کی شق بھی موجود ہے۔
قانون میں مذہب کی تبدیلی میں سہولت فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کے حوالے سے بھی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث مذہبی تنظیمیں قانون کے نفاذ سے قبل ہی قانونی احتیاط برت رہی ہیں۔
قانون میں لالچ یا رغبت کے تصور کو وسیع رکھا گیا ہے۔ مالی فائدے، تحائف یا دیگر مادی فوائد کے علاوہ نوکری، مفت تعلیم، بہتر زندگی کا وعدہ، شادی کا وعدہ اور مبینہ معجزاتی علاج جیسے دعوے بھی اس دائرے میں آ سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اصطلاحات کی وسیع تشریح مستقبل میں تنازعات کا سبب بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے یا ضرورت مندوں کی مدد کرنے والی مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ آیا کسی مخصوص صورت میں اسے مذہبی تبدیلی کی ترغیب سمجھا جائے گا یا نہیں۔
اس بارے میں حتمی صورت حال قانون کے عملی نفاذ اور عدالتوں کی جانب سے وقت کے ساتھ کی جانے والی تشریح سے واضح ہوگی۔
چرچ اور عیسائی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں دعائیہ اجتماعات کے خلاف شکایات اور الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق شرکاء سے رضاکارانہ شرکت کا تحریری بیان لینا مستقبل میں کسی مبینہ جبری تبدیلی کے الزام کی صورت میں ایک دفاعی دستاویز کے طور پر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ویرار کے ایک چرچ کے پادری کے مطابق جاری احتجاج اور الزامات کے ماحول میں فارم کا مقصد شرکاء کی رضاکارانہ شرکت کا ریکارڈ رکھنا ہے۔
دوسری جانب بعض ہندو تنظیموں نے مذہب کی تبدیلی سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے کی بات کہی ہے۔ بجرنگ دل سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی دعائیہ اجتماع میں زبردستی یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کا شبہ ہوا تو وہ پولیس کو اطلاع دیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کریں گے۔
پولیس کو بھی اس معاملے میں مختلف فریقوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت ملنے کی صورت میں حقائق کی جانچ کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
مہاراشٹر کے نئے قانون کے بعد سب سے اہم فرق یہ ہے کہ رضاکارانہ مذہب اختیار کرنا، اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا یا کسی دعائیہ اجتماع میں شرکت کرنا بذاتِ خود غیر قانونی مذہبی تبدیلی نہیں ہے۔
28 اگست سے قانون کے نفاذ کے بعد اس کی عملی تشریح اور پولیس و عدالتوں کی جانب سے مختلف معاملات میں اس کا اطلاق ہی یہ طے کرے گا کہ اس قانون کی وسیع دفعات کس طرح استعمال ہوتی ہیں۔



