
جہیز ہراسانی اور جہیز سے ہونے والی اموات کے مقدمات جلد نمٹانے کا سپریم کورٹ کا حکم
چارج شیٹ کے بعد 60 سے 90 دن میں الزام طے کرنے کی ہدایت، غیر ضروری التوا روکنے کے لیے ہائی کورٹس میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور آٹومیٹک الرٹ سسٹم بنانے کا حکم
نئی دہلی، 27 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) جہیز ہراسانی اور جہیز کی وجہ سے ہونے والی اموات کے مقدمات میں برسوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کو کم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے ملک کی ٹرائل عدالتوں سے کہا ہے کہ جہیز سے متعلق فوجداری مقدمات کو ترجیح دی جائے اور جہاں ممکن ہو ان کی سماعت مسلسل بنیادوں پر کی جائے۔ یہ ہدایات جسٹس سنجے کرول اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے 20 اگست 2026 کو جاری کیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 304-B کے تحت جہیز موت اور دفعہ 498-A کے تحت شوہر یا سسرال والوں کی جانب سے مبینہ ظلم و ہراسانی کے مقدمات کو ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کی کوشش کی جائے۔ نئے فوجداری قانون بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS)، 2023 میں ان سے متعلق دفعات بالترتیب دفعہ 80 اور دفعہ 85 ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان مقدمات میں کارروائی تیز کرنے کا مقصد عدالتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کو کم کرنا ہے۔
عدالت نے ہدایت دی کہ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عام طور پر 60 سے 90 دن کے اندر الزامات طے کرنے کی کوشش کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ مدت ایک عمومی رہنما معیار کے طور پر اختیار کی جائے گی اور ایسے معاملات میں جہاں متعدد ملزمان ہوں، ضمنی چارج شیٹ داخل ہو، فرانزک کارروائی میں تاخیر ہو یا ملزم کی دستیابی میں مسئلہ ہو، وہاں مناسب وجوہات ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔
الزامات طے ہونے کے بعد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عمل جلد شروع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جہاں حالات اجازت دیں وہاں گواہی مسلسل یا روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ کی جائے تاکہ مقدمات بار بار ملتوی ہونے کی وجہ سے طویل نہ ہوں۔ عدالت نے اس مقصد کے لیے الزام طے ہونے کے فوراً بعد گواہوں کی پیشی اور بیانات کے لیے ایک باقاعدہ وٹنس کیلنڈر تیار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
سماعت ملتوی کرنے کے معاملے میں بھی عدالت نے سختی کی ہے۔ ہدایات کے مطابق غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اگر کسی وجہ سے سماعت آگے بڑھانا ضروری ہو تو اس کی وجہ ریکارڈ میں درج کی جائے۔ اگر ملزم کا وکیل بار بار بغیر مناسب وجہ کے عدالت میں حاضر نہ ہو یا کارروائی کو غیر ضروری طور پر مؤخر کرنے کی کوشش کرے تو عدالت قانونی امداد فراہم کرنے والے وکیل یا امیکس کیوری کی خدمات لے کر مقدمے کی کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے پرانے مقدمات کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ ہائی کورٹس سے کہا گیا ہے کہ موجودہ عدالتی نظام کے تحت اسٹیج وائز مقدمات کی نگرانی، ڈیجیٹل ڈیش بورڈ، پرانے زیر التوا مقدمات کے لیے خودکار الرٹ اور کیس مانیٹرنگ سسٹم کو مربوط کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس نظام کے ذریعے یہ معلوم کرنا آسان ہوگا کہ کون سے مقدمات طویل عرصے سے زیر سماعت ہیں اور وہ کس مرحلے پر رکے ہوئے ہیں۔
ہائی کورٹس کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات، فوجداری اپیلوں، نظرثانی درخواستوں، متعلقہ قانونی دفعات کے تحت دائر درخواستوں اور ایسے معاملات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے جن میں ٹرائل پر حکم امتناع یا دیگر عدالتی رکاوٹیں موجود ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری طور پر رکے مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کرانے اور انہیں جلد نمٹانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر ازدواجی تنازع کو ایک ہی نوعیت کا مقدمہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسے خاندانی اختلافات جن میں موت، شدید تشدد یا دیگر سنگین فوجداری جرائم شامل نہ ہوں، ان میں مناسب حالات کے تحت مصالحت یا ثالثی کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم سنگین جرائم کے معاملات میں اس طریقہ کار کو کارروائی میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ تمام ہائی کورٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر سال 15 جنوری، 15 مئی اور 15 ستمبر کو مقدمات کی صورتحال اور عدالتی ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ ان رپورٹس میں زیر التوا اور نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد، مقدمات کے مختلف مراحل، جہیز سے متعلق قوانین پر عوامی آگاہی کے اقدامات، متعلقہ افسران کی تعیناتی اور عمل درآمد کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
سپریم کورٹ کی یہ ہدایات 15 دسمبر 2025 کے اپنے سابقہ فیصلے ’’اسٹیٹ آف اتر پردیش بنام اجمل بیگ‘‘ پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے دوران سامنے آئیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جہیز کے خلاف قانون موجود ہونے کے باوجود اس کے مؤثر نفاذ کے لیے عدلیہ، پولیس، انتظامیہ، حکومت اور سماجی اداروں کو مسلسل اقدامات کرنا ہوں گے۔



