سرورققومی خبریں

عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت پر ہائی کورٹ میں سماعت، دہلی پولیس نے کی مخالفت

دہلی پولیس نے دونوں کو 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردار کا حامل قرار دیتے ہوئے ضمانت دینے کی مخالفت کی۔

نئی دہلی، 27 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) 2020 دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں پر جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ دہلی پولیس نے عدالت کے سامنے دونوں ملزمان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فسادات کی مبینہ منصوبہ بندی اور اس کے دوران سرگرمیوں میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں دہلی پولیس نے الزام عائد کیا کہ عمر خالد اور شرجیل امام نے احتجاج کے دوران لوگوں کو منظم اور متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ فسادات کے دوران بھی مبینہ طور پر حکمت عملی کے تحت کردار ادا کیا۔ پولیس نے کہا کہ تفتیش کے دوران ایسے اہم شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر دونوں کو مبینہ سازش میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سماعت کے دوران پولیس نے دونوں ملزمان کی نئی ضمانت درخواستوں کی قابلِ سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں دائر کی گئی درخواستیں قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں ہیں اور عدالت سے انہیں مسترد کرنے کی درخواست کی گئی۔

دہلی پولیس نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے جنوری میں دیے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ پولیس کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے اسی مقدمے کے کچھ دیگر ملزمان کو ضمانت دی تھی، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں ان کے مبینہ کردار کو الگ نوعیت کا قرار دیا گیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ اسی وجہ سے دونوں کو اس وقت ضمانت نہیں ملی تھی۔

پولیس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5) کے اطلاق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس قانونی شق کے تحت ضمانت کے معاملے میں عدالت کو سخت شرائط اور دستیاب مواد کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے جنوری کے فیصلے میں یہ بھی بتایا تھا کہ مخصوص حالات میں عمر خالد اور شرجیل امام دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ ان میں اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک سال مکمل ہونا شامل تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال ان دونوں میں سے کوئی بھی صورتِ حال موجود نہیں ہے، اس لیے موجودہ مرحلے پر نئی ضمانت درخواستوں پر سماعت نہیں کی جانی چاہیے۔ پولیس نے اسی بنیاد پر ہائی کورٹ سے دونوں درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کی۔

یہ مقدمہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات کی مبینہ وسیع تر سازش سے متعلق ہے۔ ان فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ عمر خالد اور شرجیل امام سمیت کئی افراد کے خلاف اس معاملے میں یو اے پی اے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button