بین ریاستی خبریںسرورق

غیر قانونی حراست پر بامبے ہائی کورٹ کا حکم، مہاراشٹر حکومت نوجوان کو 2 لاکھ روپے دے گی

جب پولیس ہی قانون توڑے تو سزا میں مؤثر روک تھام کا اثر ہونا چاہیے۔

ناگپور، 7 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) بامبے ہائی کورٹ نے غیر قانونی حراست کے ایک معاملے میں مہاراشٹر حکومت کو 26 سالہ نوجوان کو 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کی جانب سے نوجوان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کے جسٹس ارملا جوشی فالکے اور جسٹس راج واکوڑے نے 31 اگست کو دیے گئے فیصلے میں کہا کہ اکوَلا پولیس نے درخواست گزار وائبھَو سوریہ ونشی کو قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر حراست میں رکھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری قانون کے نفاذ کے ذمہ دار اہلکاروں کا فرض صرف کسی ملزم کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ ریاست اور پورے معاشرے کے تئیں بھی جواب دہ ہوتے ہیں۔

ہائی کورٹ نے مہاراشٹر پولیس کے معروف نعرے ‘سدرکشنائے کھلنِگراہنائے’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مفہوم اچھے لوگوں کی حفاظت اور برائی کو سزا دینا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کو اپنے اس بنیادی مقصد کا احترام کرنا چاہیے۔

عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کو آٹھ ہفتوں کے اندر 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیا کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہی اس نوعیت کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اس سے فوجداری نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد شدید متاثر ہوتا ہے۔

درخواست گزار نے دو اکوَلا پولیس اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس کا الزام تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اسے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا اور اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

درخواست کے مطابق مارچ 2024 میں وائبھَو سوریہ ونشی اپنے والد اور چچا کی ملکیت والے ہوٹل میں موجود تھا، جہاں پولیس اہلکار پہنچے۔ الزام کے مطابق اہلکاروں نے پہلے اس کے چچا کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور مبینہ طور پر ہر ماہ رقم دینے کا مطالبہ کیا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مطالبہ مسترد کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی اور اسے حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نوجوان کے خلاف ضروری اشیا ایکٹ (Essential Commodities Act) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسے اگلے روز گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

تاہم ہائی کورٹ نے پایا کہ پولیس نے اسے قانون کے مطابق ضروری سمن جاری نہیں کیا تھا اور نہ ہی گرفتاری کی وجوہات درج کرنے والا میمو فراہم کیا گیا۔

عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس ہی اس قانون کی خلاف ورزی کرے جس کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے تو ایسی خلاف ورزی پر مؤثر اور سخت کارروائی ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق اس کا مقصد نہ صرف مستقبل میں ایسی کارروائیوں کو روکنا بلکہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد برقرار رکھنا بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button