بین الاقوامی خبریں

ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن پوری طاقت سے مزاحمت جاری رکھے گا: مسعود پزشکیان

ایران جھکنے کو تیار نہیں، پزشکیان نے بھرپور مزاحمت کا اعلان کردیا

تہران، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی پوری طاقت کے ساتھ دفاع جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حملہ آور اپنے اقدامات پر پشیمان نہیں ہوتے اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا۔

ایرانی صدر نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور خطے میں امن و استحکام کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم ان کے بقول ملک پر مسلط کی جانے والی جارحیت کا مقابلہ کرنا ایران کا حق ہے اور اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ عوامی مفادات اور علاقائی امن کو ترجیح دی ہے، لیکن جب اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ اپنے دفاع کے لیے پوری قوت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں مزید تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے امریکہ پر ’معاشی جنگ‘ مسلط کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں کے خلاف جدید میزائل استعمال کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کئی ماہ سے جاری جنگ کے دوران مختلف مراحل پر کشیدگی میں کمی ضرور دیکھی گئی، تاہم حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملوں اور ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں کے خلاف کارروائی میں ’قاسم بصیر‘ میزائل بھی استعمال کیا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نئے انتظامات اور ایک نئے نو فلائی زون سے متعلق منصوبہ سامنے لانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

تاہم ان اقدامات کی تفصیلات اور ان پر عمل درآمد کی تاریخ ابھی واضح نہیں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ میں امریکی کامیابی کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی اور پٹرول کی قیمت تین ڈالر فی گیلن تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں یہ دو ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔

ٹرمپ نے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button