قومی خبریں

بنگلہ دیش بھیجی گئی ممتاز بیگم کے شوہر کو 2 لاکھ روپے معاوضہ-گوہاٹی ہائیکورٹ کا حکم

عدالت نے کہا کہ خاندان کو اطلاع دیے بغیر خاتون کو ملک سے باہر بھیجنا قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔

گوہاٹی، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) گوہاٹی ہائی کورٹ نے بنگالی بولنے والی مسلم خاتون ممتاز بیگم کو قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنگلہ دیش بھیجے جانے کے معاملے میں آسام حکومت کو ان کے شوہر مزمل حق کو 2 لاکھ روپے عبوری معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ رقم 60 دن کے اندر ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

جسٹس کلیان رائے سرانا اور جسٹس سوسمیتا پھوکن کھونڈ کی بنچ نے یہ حکم ممتاز بیگم کے شوہر مزمل حق کی جانب سے دائر ہیبیس کارپس اپیل پر سماعت کے دوران دیا۔ مزمل حق آسام کے ناگاؤں ضلع کے جوریا علاقے کے رہنے والے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ممتاز بیگم کو 30 مئی کو ناگاؤں فارنرز ٹریبونل نے غیر ملکی قرار دیا تھا۔ وہ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد اپنے معاملے پر دوبارہ غور کے لیے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔ تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے پایا کہ ٹریبونل نے خاتون کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد کا مناسب طور پر جائزہ نہیں لیا۔

فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ممتاز بیگم کو گرفتار کرکے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ 14 جون کو انہیں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد سری بھومی ضلع میں واقع ایک بین الاقوامی سرحدی مقام کے ذریعے انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔

عدالت کے سامنے یہ بات بھی رکھی گئی کہ ممتاز بیگم کو ملک سے باہر بھیجے جانے سے قبل ان کے شوہر یا خاندان کے کسی بالغ فرد کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ عدالت نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاتون کو درخواست گزار یا خاندان کے کسی بالغ فرد کو اطلاع دیے بغیر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ حالات میں عبوری راحت کے طور پر درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دیا جانا مناسب ہوگا۔ بنچ نے ساتھ ہی واضح کیا کہ مزمل حق کو سول عدالت سے مزید قانونی راحت حاصل کرنے کا حق بھی برقرار رہے گا۔

عدالت نے اس معاملے میں مرکزی وزارت خارجہ کو بھی فریق بنایا ہے۔ سماعت کے دوران ممتاز بیگم کا بنگلہ دیش میں سراغ لگانے اور انہیں واپس ہندوستان لانے سے متعلق معاملہ بھی سامنے آیا۔ عدالت نے کہا کہ حکومت ہند کو خاتون کا پتہ لگانے اور انہیں واپس لانے کی کوشش کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔

گوہاٹی ہائی کورٹ نے ناگاؤں فارنرز ٹریبونل کے کردار پر بھی سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ممتاز بیگم کو ملک سے باہر بھیجنے سے قبل قانونی تقاضے کس حد تک پورے کیے گئے اور متعلقہ افراد کو اطلاع دینے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل ہوا یا نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے ملک بدری کے عمل میں قانونی ضابطوں کی پابندی اور متاثرہ شخص کے خاندان کو مناسب اطلاع دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button