
فرضی محبوبہ سے ملنے کے لیے 2000 کلومیٹر کا سفر، برازیلی مزدور نے بیچ دیا سب کچھ، مگر حقیقت نے توڑ دیا دل
امپیریٹریز، 19 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)برازیل میں سوشل میڈیا پر محبت کے نام پر دھوکہ دہی کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بنائے جانے والے فرضی کرداروں کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ 49 سالہ مزدور ایڈیمار مارٹنس مہینوں تک ٹک ٹاک پر ایک خاتون سے رابطے میں رہا اور اسے اپنی ہونے والی شریکِ حیات سمجھتا رہا۔ جب وہ اس سے ملنے کے لیے تقریباً 2 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے پہنچا تو معلوم ہوا کہ جس خاتون سے وہ محبت کرتا تھا، اس کا وجود ہی نہیں تھا۔
ٹی وی میرانتے کی رپورٹ کے مطابق، مارٹنس کا تعلق برازیل کی شمال مشرقی ریاست مارانھاؤ سے ہے۔ اس نے 2020 میں جیسیکا اولیویرا کے نام سے موجود ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھا تھا۔ اس اکاؤنٹ پر ایک ایسی خاتون کی ویڈیوز شیئر کی جاتی تھیں جو دیکھنے میں حقیقی انسان معلوم ہوتی تھی، لیکن درحقیقت اسے کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ٹک ٹاک پر @JessicaFazendeira کے نام سے موجود اس اکاؤنٹ کے تقریباً 3 لاکھ فالوورز تھے۔ ویڈیوز میں دکھائی جانے والی خاتون کی شخصیت اور اس کے پیغامات نے مارٹنس کو یقین دلا دیا کہ وہ ایک حقیقی انسان سے بات کر رہا ہے۔ کئی ماہ تک رابطے میں رہنے کے باوجود اسے اس بات کا شبہ نہیں ہوا کہ وہ ایک ڈیجیٹل کردار کے دھوکے میں ہے۔
مارٹنس نے بالآخر اس خاتون سے بالمشافہ ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر اس نے اپنی تمام چیزیں فروخت کر دیں۔ اس کا کہنا تھا، ”میں نے اپنا سارا سامان بیچ دیا، سب کچھ چھوڑ دیا۔“ اس کے بعد وہ بس میں سوار ہوکر ریاست میناس جیرائس کے دارالحکومت بیلو ہوریزونٹے روانہ ہوگیا۔ اس سفر میں اسے تقریباً دو دن لگے۔
11 اکتوبر کو جب وہ بیلو ہوریزونٹے پہنچا تو اس کے پاس اس خاتون تک پہنچنے کا کوئی واضح راستہ نہیں تھا۔ وہ مختلف مقامات پر اسے تلاش کرتا رہا اور بالآخر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ایک ریڈیو اسٹیشن بھی پہنچ گیا۔ تاہم، وہاں اسے جو جواب ملا، وہ اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ مارٹنس نے بتایا، ”میں ریڈیو گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سب جعلی ہے، ایسی کوئی خاتون موجود ہی نہیں۔“
اس انکشاف کے بعد مارٹنس کے لیے واپسی کا راستہ بھی آسان نہیں تھا۔ اس کے پاس رقم نہیں تھی اور شہر میں اس کا کوئی جاننے والا بھی موجود نہیں تھا۔ ایسی صورت حال میں وہ بلدیہ کے دفتر پہنچا، جہاں اس نے سماجی کارکن کو اپنی کہانی سنائی۔ اس نے بتایا کہ تنہائی اور زندگی میں شریکِ حیات تلاش کرنے کی خواہش نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔
مارٹنس اس وقت برازیل کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سکیورٹی (INSS) کی جانب سے منظور شدہ طبی رخصت پر تھا۔ اس کے پاس اضافی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ اپنے خرچ پر گھر واپس جا سکتا۔ بلدیہ کے حکام نے اسے کھانا، صفائی ستھرائی کی سہولت اور سوشل میڈیا پر ہونے والے فراڈ سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔
سماجی خدمات کی ٹیم کی جانچ کے بعد حکام نے اس کے لیے ریاست ٹوکانٹینس کے شہر آگسٹینوپولیس تک واپسی کا ٹکٹ جاری کیا۔ وہاں سے وہ مارانھاؤ کی ریاست میں واقع امپیریٹریز پہنچا، جہاں اس نے اپنے ایک رشتہ دار کے گھر پناہ لی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈیجیٹل طور پر تیار کی گئی خاتون کی ایسی ویڈیوز بھی موجود تھیں جن میں وہ ایک ایسے مرد کی تلاش کا دعویٰ کرتی تھی جسے اپنے فارم پر لے جاکر مالی مدد فراہم کرسکے۔ بعد میں حذف کی جانے والی ایک ویڈیو میں ورچوئل خاتون کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ”میں تمہارا ساتھ دینا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ تم میرے فارم پر آؤ اور زندگی بھر دوبارہ کام نہ کرو۔“
اس طرح کے پیغامات نے مارٹنس کو یہ یقین دلانے میں کردار ادا کیا کہ اسے ایک ایسی ساتھی مل سکتی ہے جو اس کی زندگی بدل دے گی۔ تاہم، حقیقت اس کے تصور سے بالکل مختلف نکلی۔ اس اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے بعد میں ایک ویڈیو جاری کرکے اعتراف کیا کہ اس میں دکھائی جانے والی شخصیت مصنوعی تھی۔ اس نے مارٹنس کے ساتھ براہِ راست رابطہ ہونے کی بھی تردید کی۔



