
ایس بی آئی کے 3,897 صارفین کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک، بینک نے سیبی کو دی اطلاع
ایس بی آئی صارفین فراڈ سے کیسے بچیں؟
حیدرآباد، 22 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے ہزاروں صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بینک نے اس سائبر سکیورٹی معاملے سے متعلق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کو اطلاع دی ہے۔ ابتدائی جانچ میں 3,897 صارفین کی حساس معلومات متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جس میں نام، موبائل نمبر، ای میل ایڈریس، تاریخ پیدائش، رہائشی پتے اور قرض سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، ڈارک ویب پر دستیاب تقریباً 3.75 لاکھ ریکارڈز کی جانچ کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا۔ بینک کو تھریٹ انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے ادارے، ڈیفنس سائبر ایجنسی اور انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) کی جانب سے سائبر خطرے سے متعلق انتباہ موصول ہوا تھا۔ تاہم، لیک ہونے والے ریکارڈز کی مکمل نوعیت اور ان کے اصل ماخذ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ایس بی آئی نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے باوجود بینک کی بنیادی بینکنگ خدمات معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ بینک کے روزمرہ آپریشنز پر کسی اثر کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ڈیٹا لیک ہونے کی وجوہات اور اس کے ممکنہ ذرائع کا پتا لگانے کے لیے CERT-In سے منظور شدہ ایک آزاد سائبر سکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
بینک نے سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنے انسیڈنٹ رسپانس اور کنٹینمنٹ پروٹوکول بھی فعال کر دیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ممکنہ نقصان کو محدود کرنا، سسٹمز کی حفاظت کو یقینی بنانا اور صارفین کی مالی و ذاتی معلومات کو مزید خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، متاثرہ صارفین کو ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے مطلع کیا جا رہا ہے۔
بینک نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کے بعد گھبرانے کے بجائے اپنی بینکنگ سرگرمیوں پر خاص نظر رکھیں۔ صرف ذاتی معلومات کے لیک ہونے سے لازمی طور پر بینک اکاؤنٹ یا اس میں موجود رقم تک رسائی حاصل نہیں ہو جاتی، تاہم ایسی معلومات کا استعمال کرکے جعل ساز صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایس بی آئی صارفین فراڈ سے کیسے بچیں؟
صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی شخص کے ساتھ ون ٹائم پاس ورڈ (OTP)، یو پی آئی پن، اے ٹی ایم پن یا نیٹ بینکنگ پاس ورڈ شیئر نہ کریں۔ خود کو بینک کا افسر ظاہر کرنے والے افراد کی فون کالز، مشکوک پیغامات اور نامعلوم لنکس سے محتاط رہیں۔ اگر کوئی شخص اکاؤنٹ بند ہونے، رقم ضبط ہونے یا فوری تصدیق کے نام پر خفیہ معلومات طلب کرے تو اس پر بھروسہ نہ کریں۔
اپنے بینک اکاؤنٹ کے ٹرانزیکشن الرٹس فعال رکھیں اور اسٹیٹمنٹ باقاعدگی سے چیک کریں۔ کسی نامعلوم یا مشکوک لین دین کی صورت میں فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کریں۔ فشنگ سے متعلق شکایت درج کرانے کے لیے ایس بی آئی کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری ای میل ایڈریس report.phishing@sbi.co.in استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بینک سے رابطے کے لیے ہمیشہ اس کی سرکاری ویب سائٹ پر درج رابطہ نمبروں کو ترجیح دیں۔
اگر کسی صارف کے ساتھ آن لائن مالی دھوکہ دہی ہو جائے تو اسے فوراً قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر اطلاع دینی چاہیے اور سرکاری سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کرانی چاہیے۔ جلد شکایت کرنے سے رقم کی منتقلی روکنے یا اس کی وصولی کی کوشش میں مدد مل سکتی ہے۔
سائبر ماہرین کے مطابق، ذاتی معلومات کی حفاظت کے لیے مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنا، مختلف اکاؤنٹس کے لیے الگ پاس ورڈ رکھنا اور کسی بھی غیر متوقع بینکنگ پیغام کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کرنا ضروری ہے۔ صارفین کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ذاتی معلومات لیک ہونے کی خبر ملنے پر کسی نامعلوم شخص کی ہدایت پر کوئی ایپ انسٹال نہ کریں اور نہ ہی اپنی بینکنگ تفصیلات فراہم کریں۔



